کچھ بھی نہیں ہے ساغر و مینا ، نہ جام میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکچھ بھی نہیں ہے ساغر و مینا ، نہ جام میں
پنہاں ہے لطفِ زندگی شب کو قیام میں
جتنی ہے تیرے پیار میں روشن جبیں مری
اتنی کہاں ہے روشنی ماہِ تمام میں
اہلِ جنوں میں پہلی سی شورش نہیں ہے اب
رہنے لگی ہے اب کمی کچھ اہتمام میں
آنکھوں کے خشک ہو گئے سوتے میں کیا کروں
اب زندگی کے غم کہاں پینے کو جا م میں
کیسے دلاؤں وقت کے منصف کو اب یقیں
لغزش ہے جب یہ میرے ہی ہر ایک گام میں
سچ ہے یہی کہ شب کے مقابل ہے آئینہ
دیکھو نہ آفتاب کو یوں وقت شام میں
یہ ہے کسی کی شیریں مقالی کا معجزہ
بکھری ہوئی مٹھاس ہے وشمہ کلام میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






