کہیو کہ درد دل کی دوا کا کیا ہوا ؟
Poet: Asad By: Asad, mpk کہیو کہ درد دل کی دوا کا کیا ہوا ؟
وہ کشتہ زیست اپنے بقا کا کیا ہوا ؟
جو مانگی تھی مل کر ساتھ کبھی ہم نے
اس دل سے نکلی یار دعا کا کیا ہوا ؟
تم تو کہتے تھے کہ جان چھڑک دوں گا
آئی ھے بلا سر پہ عہد وفا کا کیا ہوا ؟
کہیو رشتون کی ڈور مین اس گانٹھ کا کیا ؟
بتلائیو کہ اسکے ٹوٹنے کی وجہ کا کیا ہوا ؟
واعظ ! گرتے پڑتے ہیں سجدوں میں مگر
نہیں جانتے کہ رب کی رضا کا کیا ہوا؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






