کیا جانو !

Poet: عمیر اکبر By: umair Akbar tabish , Rawalpindi

 کیا جانو میں ان لمحوں میں کن حالات سے گزرا
تیرا رنگ جب تیرے لہجے کے انداز سے گزرا

بدلنا تھا تو کسی اور موسم میں بدل جاتے
خزاں کا تھا جونکھا اک جو بہار سے گزرا

یقین تیری محبت پر مجھے خود سے بھی زیادہ تھا
تیری بے رخی سے میں کس امتحان سے گزرا

گزرتے تھے سر راہ ہم اکثر جن راہوں سے
پوچھو تو ادھوری اس کبھی میں راہ سے گزرا ؟

گزرا کیا میرے دل پر تمہیں اس سے ہے کیا لینا
کبھی تو میں تھا تیرے دل کی راہ سے گزرا

سنا ہے کیا بارش میں کچے مکانوں کا ؟
اپنا بھی جدائی میں کچھ ایسا حال ہے گزرا

اسے میں بے وفا کہدوں یہ توہین محبت ہے
تیری وفا کے تابش مگر آس پاس سے گزرا

Rate it:
Views: 945
06 Oct, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL