گر ہاتھ میں قلم نہ رکھتے
Poet: Darakhshanda By: Darakhshanda, Houstonپیش نظر گر تم نہ ہوتے اور شوق قلم ہم نہ رکھتے
یوں پھر ہمکلا م ہم نہ ہوتے گر جان لیتے پھر قلم ہی نہ رکھتے
گو خیالات تو اپنے جدا ہی رہتے مگر ا ند ا ز بیاں کی ایسی ادا نہ رکھتے
لکھتے ہی نہ کبھی اپنے قلم سے گر حق بیا ں کی زبا ں ہم نہ رکھتے
بھلے ہی رہتے ایسی آ زا دی علم سے گر زند ان قلم کبھی ہم گروی نہ رکھتے
بے فکرے و بے غم ہی ہم رہتے گر ہاتھ میں ہم اپنے کبھی قلم ہی نہ رکھتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






