ہے کشمکش یہ عجب ان کے سامنے وشمہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا کھلا کھلا سا وہ ماحول گلستاں سے ہم
تھیں جس کے دم سے بہاریں وہ باغباں سے ہم
چلی ہوائے تشدد اجڑ گیا ہے شہر
کہیں مکیں نہ رہے تو کہیں مکا ں سے ہم
لٹا دیا تھا نشیمن بھی جس چمن کے لئے
اسی چمن میں مرا کوئی نوحہ خواں سے ہم
جھکی ہے خود ہی جبیں جب بھی آئی یاد حبیب
ہمارا سجدہ کبھی ہو تابع اذاں سے ہم
انھیں کے دم سے ہیں تہذیب کے نشاں باقی
وہ قدریں جن کا کوئی آج داستاں سے ہم
ہیں مصلحت کی سیاہی میں ڈوبی تحریریں
ترا قلم بھی حسن تیرا ترجماں سے ہم
ہے کشمکش یہ عجب ان کے سامنے وشمہ
نہ کہہ سکوں نہ انھیں اور یہ جی ہاں سے ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






