یہ شاعِری ہے حَقیقت کی اِک جَمی ہُوئی تَصویر
Poet: " مظہرؔ اقبال گوندل " By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiیہ شاعِری ہے حَقیقت کی اِک جَمی ہُوئی تَصویر
چِراغِ دِل کی کَرامَت ہے روشنی کی بَنی تَصویر
محبّتوں کی حَقیقت ہے زِندَگی کی لِکھی تَحریر
یہ دِل کی گَہرائِیوں سے ہے روشنی کی بَنی تَصویر
گُماں کے زَہر کو توڑیں جو اَہلِ صِدق وَ یَقیں دائِم
یَقینِ قَلب ہی بَنتا ہے روشنی کی بَنی تَصویر
جَہاں میں صَبر ہے طاقَت، جَہاں میں شُکر ہے دَولَت
یہی تو ہے دینِ فِطرَت کی روشنی کی بَنی تَصویر
اُمید و صَبر کی قُوَّت ہے اَنبِساط کا سَرمایَہ
صَداقَتوں کی حَقیقت ہے زِندَگی کی بَنی تَصویر
محبّتوں کے سَبَق سے ہے دِل کو مِلتی سُکونَت بھی
یہ عِشقِ صادِق ہی دیتا ہے روشنی کی بَنی تَصویر
ہَر ایک موڑ پہ دیکھی ہے کائِنات نے، "مَظہَرؔ"
خُدا کی قُدرَت نَمایاں ہے روشنی کی بَنی تَصویر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






