یہ کیسا ڈر ہے

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا

یہ کیسا خوف لاحق ہے مجھے
یہ کیسا ڈر ہے جو میری پریشانی کا باعث ہے
کوئی آغوش میں لے کر
بچا لے مجھ کو اس ڈر سے
اندھیری شب سے ڈرتی ہوں
کھنک سے چوڑیوں کی کیوں مجھے اب ڈر سا لگتا ہے
پکار و چیخ سے ڈرتی ہوں
تو کانوں میں اپنی انگلیوں کو ٹھونس لیتی ہوں
بدن پھر کانپ اٹھتا ہے تو آنکھیں بند کرتی ہوں
کوئی آغوش میں لے کر
بچالے مجھ کو اس ڈر سے
سنا ہے خون میں لٹ پٹ کئی لاشیں پڑی ہیں شہر میں اپنے
نہ جانے کیسے میں لاشوں کا منظر دیکھ پاؤں گئ
کوئی آغوش میں لے کر
بچالے مجھ کو اس ڈر سے
 

Rate it:
Views: 214
11 Jan, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL