Ab Mera Intizaar Na Karna
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hillDil Main Guzray Huway Lamhaat Ki Yaadain Lay Ker
Wahan Chala Hoon Jahan Manzilon Ka Naam Nhin
Ab Mera Intizaar Na Kerna
Jab Kabhi Chaand Ki Kirnon Ko Dekhnay Niklo
Jab Kabhi Zulf E Pareeshan Ko Hawain Choomain
Jab Kabhi Aay Teri Aankh Main Ashkon Ka Toofaan
Jab Kabhi Dil Ke Gulistaan Main Kaliyaan Mehkain
Tu Apni Shokh Adaaon Main Udaasi Bhar Ke
Yaad E Maazi Ki Tarah Mera Tasawwar Karna
Keh Gai Saatain Phir Laot Ker Nhin Aateen
Teray Sonay Ke Dareechay Tujhay Mubarak Hon
Main Tu Zarra Hoon Kisi Rah Main Bhi Jee Loon Ga
Wo Koi Aur Tha Jo Tujh Se Milnay Aata Tha
Tum Ye Samjho Mera Wajood Kabhi Tha Hi Nhin
Na Manzilain,Na Sang E Meel,Na Shajr,Na Aaraam
Main Wahan Hoon Ke Jahan Koi Raasta Hi Nhin
Ab Mera Intizaar Na Kerna
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






