Poetries by ROSE
میں عشق کہلاتا ہوں عشق کیا ہے
میں آواراپرندہ ہو
پکارہ عشق کے نام سے جاتا ہو
خوش بخت ہوتے ہے جنہیں آباد کرتا ہو
امومن لوگوں کو برباد کرتا ہو
ہمیشہ سفر میں ہی رہتا ہو
منزل کو نہ کبھی پا سکو
آئی پر جب اپنی آتا ہو
نوابوں کو بھی غلام بناتا ہو
ایسا ہی کچھ کمال رکھتا ہو
ہنستے ہوۓ کو رولاتا ہو
روتے ہوۓ کو ہنساتا ہو
ویسے اتنا بھی برا نہیں ہو میں
ہر کسی پر ظلم نہیں کرتا ہو
جن کے ستارے نہیں ملتے
بس ان کو ہی تڑپاتا ہو
میں عشق کہلاتا ہو Abrish anmol
میں آواراپرندہ ہو
پکارہ عشق کے نام سے جاتا ہو
خوش بخت ہوتے ہے جنہیں آباد کرتا ہو
امومن لوگوں کو برباد کرتا ہو
ہمیشہ سفر میں ہی رہتا ہو
منزل کو نہ کبھی پا سکو
آئی پر جب اپنی آتا ہو
نوابوں کو بھی غلام بناتا ہو
ایسا ہی کچھ کمال رکھتا ہو
ہنستے ہوۓ کو رولاتا ہو
روتے ہوۓ کو ہنساتا ہو
ویسے اتنا بھی برا نہیں ہو میں
ہر کسی پر ظلم نہیں کرتا ہو
جن کے ستارے نہیں ملتے
بس ان کو ہی تڑپاتا ہو
میں عشق کہلاتا ہو Abrish anmol
نہ کر طلب آزادی کی نہ کر طلب آزادی کی
نہ توڑ سکے گا قید کے پیجڑیں
ا شک نہ بھایا کر یاد میں اس کی
بچھڑ جاۓ یار پھر نہیں ملا کرتے
عشق اتر جاۓ دل سے روح میں
پھر ڈرا نہیں کرتے ا تش عشق میں جلنے سے
مقدر روٹھ ............جا ۓ
تو عاشق ............ہار جاتے ہے
شاید کے وه پھر سے مسکراۓ
مگر درد دل میں هو تو لب مسکرایا نہیں کرتے
خدا سے دعا کیا کرو یاروں
کسی کا دل نہ ٹوٹے
کیونکہ جب اک بار دل ٹوٹ جا ۓ
پھر ساری عمر نہیں جوڑا کرتے Abrish anmol
نہ توڑ سکے گا قید کے پیجڑیں
ا شک نہ بھایا کر یاد میں اس کی
بچھڑ جاۓ یار پھر نہیں ملا کرتے
عشق اتر جاۓ دل سے روح میں
پھر ڈرا نہیں کرتے ا تش عشق میں جلنے سے
مقدر روٹھ ............جا ۓ
تو عاشق ............ہار جاتے ہے
شاید کے وه پھر سے مسکراۓ
مگر درد دل میں هو تو لب مسکرایا نہیں کرتے
خدا سے دعا کیا کرو یاروں
کسی کا دل نہ ٹوٹے
کیونکہ جب اک بار دل ٹوٹ جا ۓ
پھر ساری عمر نہیں جوڑا کرتے Abrish anmol
میں اپنا ضبط آزماتا ہوں میں ہر روز روتا ہوں
مگر آنسو نہیں بہتے میرے
میں خاموش رہتا ہوں
مگر دل صدائیں دیتا ہے اسے
میں اسے یاد کرتا ہوں
مگر وہ ساتھ نہیں میرے
میں جب جب دامن پھلاتا ہوں
دعا میں اس کو ہی مانگتا ہوں
دعائیں ساتھ نہیں میرے
شاید مقدر نہیں وہ میرا
میں اپنا ضبط آزماتا ہوں
دعائیں مقدر بدلتی ہے
میں اب بھی اس پر یقین رکھتا ہوں Abrish anmol
مگر آنسو نہیں بہتے میرے
میں خاموش رہتا ہوں
مگر دل صدائیں دیتا ہے اسے
میں اسے یاد کرتا ہوں
مگر وہ ساتھ نہیں میرے
میں جب جب دامن پھلاتا ہوں
دعا میں اس کو ہی مانگتا ہوں
دعائیں ساتھ نہیں میرے
شاید مقدر نہیں وہ میرا
میں اپنا ضبط آزماتا ہوں
دعائیں مقدر بدلتی ہے
میں اب بھی اس پر یقین رکھتا ہوں Abrish anmol
عشق میں ڈوبے تو ہم نے جانا عشق میں ڈوبے تو ہم نے جانا
عشق وہ برستا پانی ہے
جو بہتا تو انکھ سے ہے
مگرچیرتا دل کو ہے
عشق میں ڈوبے تو ہم نے جانا
عشق وہ عبادت ہے جو
بندے کو اپنے رب سے ملاتا ہے
گناہوں سےدور عاجزی سکھاتا ہے
عشق میں ڈوبے تو ہم نےجانا
عشق کبھی مرتا نہیں موت سے ڈرتا نہیں
انسان نےدیکھاہے مچھلی کو مچھلتے بغیر پانی کے
عشق اپنے ہی اندر انسان کو مچھلی بنادیتاہے
کیا خوب کہاہے کسی نے اے روز
عشق نہیں وہ طوفان جو
چھا کر ڈھل جاۓ
عشق ہے وہ طوفان جسکے بھور میں
ہر عاشیق خوشی سےدم توڑ جاۓ
عشق میں ڈوبے تو ہم نے جانا Abrish anmol
عشق وہ برستا پانی ہے
جو بہتا تو انکھ سے ہے
مگرچیرتا دل کو ہے
عشق میں ڈوبے تو ہم نے جانا
عشق وہ عبادت ہے جو
بندے کو اپنے رب سے ملاتا ہے
گناہوں سےدور عاجزی سکھاتا ہے
عشق میں ڈوبے تو ہم نےجانا
عشق کبھی مرتا نہیں موت سے ڈرتا نہیں
انسان نےدیکھاہے مچھلی کو مچھلتے بغیر پانی کے
عشق اپنے ہی اندر انسان کو مچھلی بنادیتاہے
کیا خوب کہاہے کسی نے اے روز
عشق نہیں وہ طوفان جو
چھا کر ڈھل جاۓ
عشق ہے وہ طوفان جسکے بھور میں
ہر عاشیق خوشی سےدم توڑ جاۓ
عشق میں ڈوبے تو ہم نے جانا Abrish anmol
سنو جا ناں سنو جانا ں
تم میرے ہو
بس میرے ہو
مجھہ اس کا
احساس دلاتھے
رہا کرو جاناں
مجھہ یہ سنا
اچھا لگتا ہے
دل کو سکو ن
ملتا ہے جانان
تم سے واپستہ
ہر لفظ میری
روح کو مہکا
دیتا ہے یہ دنیا
الگ لگتی ہے
ہر احساس
حسین لگتا ہے
تم سے جذبے
مہک جاتے ہے
سنو جاناں
ہر رات کی آ خری
شا م ہر صبح
کیے پھلے آغاز
کی سوچ ہو تم
سنو جانا ں
تم ہی تو ابتدا ہو
تم ہی تو انتہا ہ ہو
تم خواب ہو
تم ہی تو میری
تعبیر ہو
تم راحت ہو
تم ہی تو چاہت ہو
سنو جانا ں
تم بس میرے ہو Abrish anmol
تم میرے ہو
بس میرے ہو
مجھہ اس کا
احساس دلاتھے
رہا کرو جاناں
مجھہ یہ سنا
اچھا لگتا ہے
دل کو سکو ن
ملتا ہے جانان
تم سے واپستہ
ہر لفظ میری
روح کو مہکا
دیتا ہے یہ دنیا
الگ لگتی ہے
ہر احساس
حسین لگتا ہے
تم سے جذبے
مہک جاتے ہے
سنو جاناں
ہر رات کی آ خری
شا م ہر صبح
کیے پھلے آغاز
کی سوچ ہو تم
سنو جانا ں
تم ہی تو ابتدا ہو
تم ہی تو انتہا ہ ہو
تم خواب ہو
تم ہی تو میری
تعبیر ہو
تم راحت ہو
تم ہی تو چاہت ہو
سنو جانا ں
تم بس میرے ہو Abrish anmol
چاہنے والے چاہت کے انجام سے انجان ہوتے ہے چاہنے والے چاہہت کے انجام سے انجان ہوتے ہے
دل تو معصوم ہوتا ہے پھر نجانےاس پر کیوں الزام ہوتے ہے
محبت کے بخشے ہوۓ لوگ خوش نصیب ہوتے ہے ورنہ
گرفتارعشق کے مجنوں ہمیشہ موت کے قریب ہوتے ہے
لگ جاۓ جیسے روگ عشق کا
وہ نہ جیتے ہے نہ مرتے ہے
مت اڑاؤں مذاق عاشقوں کا
یہ پاگل تو دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہے
چاہنے والے چاہہت کے انجام سے انجان ہوتے ہے
دل تو معصوم ہوتا ہے پھر نجانے اس پر کیوں الزام ہوتے ہے Abrish anmol
دل تو معصوم ہوتا ہے پھر نجانےاس پر کیوں الزام ہوتے ہے
محبت کے بخشے ہوۓ لوگ خوش نصیب ہوتے ہے ورنہ
گرفتارعشق کے مجنوں ہمیشہ موت کے قریب ہوتے ہے
لگ جاۓ جیسے روگ عشق کا
وہ نہ جیتے ہے نہ مرتے ہے
مت اڑاؤں مذاق عاشقوں کا
یہ پاگل تو دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہے
چاہنے والے چاہہت کے انجام سے انجان ہوتے ہے
دل تو معصوم ہوتا ہے پھر نجانے اس پر کیوں الزام ہوتے ہے Abrish anmol
حرف غلط نہ تھا مجھہ سمجھا گیا غلط حرف غلط نہ تھا مجھہ سمجھا گیا غلط
لکھا گیا غلط کبھی سمجھا گیا غلط
بس میں غلط نہ تھا میری باتیں غلط نہ تھ
مجھہ کو میرے کلام کو جانچا گیا غلط
میزان درست تھا پلڑ ے درست تھے
لیکن یہ کون دیکھتا کہ تولا گیا غلط
مجھ میں نہیں تھے عیب کسوٹی میں عیب تھے
میرا تھا یہ قصور کہ پرکھا گیا غلط
طوفان کے بعد اہل تدتبر کو سے یہ فکر
سا حل کا تھا قصور دریا گیا غلط
افراد ہے غلط یہ تصورات ہے غلط
یہ اس معاشرے ہی کو ڈھالا گیا غلط Abrish Anmol
لکھا گیا غلط کبھی سمجھا گیا غلط
بس میں غلط نہ تھا میری باتیں غلط نہ تھ
مجھہ کو میرے کلام کو جانچا گیا غلط
میزان درست تھا پلڑ ے درست تھے
لیکن یہ کون دیکھتا کہ تولا گیا غلط
مجھ میں نہیں تھے عیب کسوٹی میں عیب تھے
میرا تھا یہ قصور کہ پرکھا گیا غلط
طوفان کے بعد اہل تدتبر کو سے یہ فکر
سا حل کا تھا قصور دریا گیا غلط
افراد ہے غلط یہ تصورات ہے غلط
یہ اس معاشرے ہی کو ڈھالا گیا غلط Abrish Anmol
دو لفظ پیار والے،،،،، ذرا بول کے تو دیکھ دو لفظ پیار والے،،،،، ذرا بول کے تو دیکھ
حرفوں کا وزن ہوتا ہے تُو تول کے تو دیکھ
یادیں امیدیں حسرتیں سب کچھ اسی میں ہے
دل کا کباڑ خانہ،،،،،،،، ذرا کھول کے تو دیکھ
گہرائیوں میں ڈوب جا مل جائے گا رستہ
تو بیچ والی آنکھ، ذرا کھول کے تو دیکھ
نورِ ازل،،،،،، مٹھاس کا عادی ہے تُو بہت
کانوں میں کڑوا سچ بھی ذرا گھول کے تو دیکھ Abrish anmol
حرفوں کا وزن ہوتا ہے تُو تول کے تو دیکھ
یادیں امیدیں حسرتیں سب کچھ اسی میں ہے
دل کا کباڑ خانہ،،،،،،،، ذرا کھول کے تو دیکھ
گہرائیوں میں ڈوب جا مل جائے گا رستہ
تو بیچ والی آنکھ، ذرا کھول کے تو دیکھ
نورِ ازل،،،،،، مٹھاس کا عادی ہے تُو بہت
کانوں میں کڑوا سچ بھی ذرا گھول کے تو دیکھ Abrish anmol
اب کس سے کہیں اور کون سنے اب کس سے کہیں اور کون سنے
جو حال تمہارے بعد ہوا
اس دل کی جھیل سی آنکھوں میں
اک خواب بہت برباد ہوا
یہ ہجر ہوا بھی دشمن ہے
اس نام کے سارے رنگوں کی
وہ نام جو میرے ہونٹوں پر
خوشبو کی طرح آباد ہوا
اس شہر میں کتنے چہرے تھے
کچھ یاد نہیں سب بھول گئے
اک شخص کتابوں جیسا تھا
وہ شخص زبانی یاد ہوا
وہ اپنے گاؤں کی گلیاں تھیں
دل جن میں ناچتا گاتا تھا
اب اس سے فرق نہیں پڑتا
ناشاد ہوا یا شاد ہوا
بے نام ستائش رہتی تھی
ان گہری سانولی آنکھوں میں
ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا
دل کتنا بے داد ہوا Abrish anmol
جو حال تمہارے بعد ہوا
اس دل کی جھیل سی آنکھوں میں
اک خواب بہت برباد ہوا
یہ ہجر ہوا بھی دشمن ہے
اس نام کے سارے رنگوں کی
وہ نام جو میرے ہونٹوں پر
خوشبو کی طرح آباد ہوا
اس شہر میں کتنے چہرے تھے
کچھ یاد نہیں سب بھول گئے
اک شخص کتابوں جیسا تھا
وہ شخص زبانی یاد ہوا
وہ اپنے گاؤں کی گلیاں تھیں
دل جن میں ناچتا گاتا تھا
اب اس سے فرق نہیں پڑتا
ناشاد ہوا یا شاد ہوا
بے نام ستائش رہتی تھی
ان گہری سانولی آنکھوں میں
ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا
دل کتنا بے داد ہوا Abrish anmol