سنو جا ناں
Poet: abrish anmol By: Abrish anmol, Sargodhaسنو جانا ں
تم میرے ہو
بس میرے ہو
مجھہ اس کا
احساس دلاتھے
رہا کرو جاناں
مجھہ یہ سنا
اچھا لگتا ہے
دل کو سکو ن
ملتا ہے جانان
تم سے واپستہ
ہر لفظ میری
روح کو مہکا
دیتا ہے یہ دنیا
الگ لگتی ہے
ہر احساس
حسین لگتا ہے
تم سے جذبے
مہک جاتے ہے
سنو جاناں
ہر رات کی آ خری
شا م ہر صبح
کیے پھلے آغاز
کی سوچ ہو تم
سنو جانا ں
تم ہی تو ابتدا ہو
تم ہی تو انتہا ہ ہو
تم خواب ہو
تم ہی تو میری
تعبیر ہو
تم راحت ہو
تم ہی تو چاہت ہو
سنو جانا ں
تم بس میرے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






