نہ کر طلب آزادی کی
Poet: Abrish anmol By: Abrish anmol, Sargodhaنہ کر طلب آزادی کی
نہ توڑ سکے گا قید کے پیجڑیں
ا شک نہ بھایا کر یاد میں اس کی
بچھڑ جاۓ یار پھر نہیں ملا کرتے
عشق اتر جاۓ دل سے روح میں
پھر ڈرا نہیں کرتے ا تش عشق میں جلنے سے
مقدر روٹھ ............جا ۓ
تو عاشق ............ہار جاتے ہے
شاید کے وه پھر سے مسکراۓ
مگر درد دل میں هو تو لب مسکرایا نہیں کرتے
خدا سے دعا کیا کرو یاروں
کسی کا دل نہ ٹوٹے
کیونکہ جب اک بار دل ٹوٹ جا ۓ
پھر ساری عمر نہیں جوڑا کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






