اے ماں
Poet: مجیب الرحمن منصور By: مجیب منصور, کھرڑاہ۔خیرپور
بڑا محروم موسم ہےتمہاری یاد کا اے ماں
نجانےکس نگر کو چھوڑ کر چل دی ہو مجھ کو ماں
شفق چہروں میں اکثر ڈھونڈتی رہتی ہوں میں تم کو
کسی کا ہاتھ سر پہ ہو ،تو لگتا ہےتم آئی ہو
کوئی تو ہو جو پوچھے کیوں تیرےاندر اداسی ہے
میرے دل کےگھروندے کی صراحی کتنی پیاسی ہے
مجھے جادوئی لگتی ہیں تمہاری قربتیں اب تو
میری یادوں میں رہتی ہیں تمہاری شفقتیں اب تو
کبھی لگتا ہے خوشبو کی طرح مجھ سےلپٹتی ہو
کبھی لگتا ہےیوں ماتھے پہ بوسے ثبت کرتی ہو
کوئی لہجہ تیرےجیسا میرے من میں اتر جائے
کوئی آواز میری تشنگی کی گود بھر جائے
کوئی ایسے دعائیں دے کہ جیسے تان لہرائے
کسی کی آنکھ میں آنسو لرزتے ہوں میری خاطر
مجھے پردیس بھی بھیجے لڑے بھی وہ میری خاطر
مگر جب لوٹتی ہوں ساری یادیں لے کےآنچل میں
تو سایہ تک نہیں ملتا کسی گنجان بادل میں
کوئی لوری نہیں سنتی ہوں میں اب دل کی ہلچل میں
تمہاری فرقتوں کا درد بھر لیتی ہوں کاجل میں
کہیں سے بھی دعاؤں کی نہیں آتی مجھے خوشبو
میری خاطر کسی کی آنکھ میں اترے نہیں آنسو
محبت پاش نظروں سے مجھےتم بھی تکا کرتیں
مدرز ڈے پر کسی تحفےکی مجھ سے آرزو کرتیں
سجاکر طشت میں چاندی کےتم کو ناشتہ دیتی
بہت سےپھول گلدانوں میں لا کر میں سجا دیتی
کوئی موہوم سا بھی سلسلہ باقی کہاں باہم
کہ اب برسیں میرے نیناں تمہاری دید کو چھم چھم
دلاؤں ایک ٹوٹےدل سے چاہت کا یقیں کیسے
میری ماں آسمانوں سے تجھے لاؤں یہاں کیسے
نجانے کون سی دنیا میں جا کے بس گئی ہو ماں
بڑا محروم موسم ہےتمہاری یاد کا اےماں
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






