Poetries by Ahsan Mirza
گلستانِ قلب تری الفت کے موسم میں
وفا کی آبیاری سے
مرے صحرا سے پیاسے دل کی مٹی میں اُگ آئے ہیں
ہزاروں پھول الفت کے
محبت کے
قرابت کے
بہت سے پھول تو منسوب ہیں تیری ادائوں سے
کوئی ابرو کی جنبش پر کِھلا ہے
کوئی شوخی پر
کوئی تیرے تبسم پر کلی سے پھول بن بیٹھا
شجر بھی کچھ ہیں وعدوں کے
گھنے، مضبوط، قدآور
کہ جس پہ طائرِ الفت وفا کا گیت گاتا ہے
کہ جب زلفیں ترے ماتھے پہ آکر رقص کرتی ہیں
صبا کے ٹھنڈے جھونکوں سے
گلستاں جھوم جاتا ہے
بہت ہی خوبصورت ہے مرے دل میں سجا گلشن
کہ جس میں ہر گھڑی تیرے تعلق کا
ستارہ جھلملاتا ہے
Ahsan Mirza
وفا کی آبیاری سے
مرے صحرا سے پیاسے دل کی مٹی میں اُگ آئے ہیں
ہزاروں پھول الفت کے
محبت کے
قرابت کے
بہت سے پھول تو منسوب ہیں تیری ادائوں سے
کوئی ابرو کی جنبش پر کِھلا ہے
کوئی شوخی پر
کوئی تیرے تبسم پر کلی سے پھول بن بیٹھا
شجر بھی کچھ ہیں وعدوں کے
گھنے، مضبوط، قدآور
کہ جس پہ طائرِ الفت وفا کا گیت گاتا ہے
کہ جب زلفیں ترے ماتھے پہ آکر رقص کرتی ہیں
صبا کے ٹھنڈے جھونکوں سے
گلستاں جھوم جاتا ہے
بہت ہی خوبصورت ہے مرے دل میں سجا گلشن
کہ جس میں ہر گھڑی تیرے تعلق کا
ستارہ جھلملاتا ہے
Ahsan Mirza
اب محبت کا الزام ہے اور وہ اب محبت کا الزام ہے اور وہ
سرمئی سرمئی شام ہے اور وہ
اک کتابِ محبت ہے دل پر رقم
جس میں شامل مرا نام ہے اور وہ
اب تخیل میں کیا ہو نیا ہر گھڑی
تھی جو پہلے وہی شام ہے اور وہ
میں وفا کے قفس میں اکیلا نہیں
اک تعلق کا ابہام ہے اور وہ
میرے کمرے کی تنہائی میں میز پر
میرے لفظوں کا کہرام ہے اور وہ
چشمِ احسن میں دیکھو تو اور کچھ نہیں
حسرتوں سے بھرا جام ہے اور وہ Ahsan Mirza
سرمئی سرمئی شام ہے اور وہ
اک کتابِ محبت ہے دل پر رقم
جس میں شامل مرا نام ہے اور وہ
اب تخیل میں کیا ہو نیا ہر گھڑی
تھی جو پہلے وہی شام ہے اور وہ
میں وفا کے قفس میں اکیلا نہیں
اک تعلق کا ابہام ہے اور وہ
میرے کمرے کی تنہائی میں میز پر
میرے لفظوں کا کہرام ہے اور وہ
چشمِ احسن میں دیکھو تو اور کچھ نہیں
حسرتوں سے بھرا جام ہے اور وہ Ahsan Mirza
وفا میں تیری میں یہ بھی سراب دیکھوں گا وفا میں تیری میں یہ بھی سراب دیکھوں گا
ابھی تو جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھوں گا
بھلے سے کچھ بھی نہ کہہ التفات پر میرے
میں تیرے چہرے پہ تیرا جواب دیکھوں گا
مجھے یقیں ہے کہ وقتِ جدائی آنے پر
میں تیرا عکس کہیں زیرِ آب دیکھوں گا
میں تیرے جذب سے خود کو نکال سکتا تھا
خبر نہیں تھی ترا اجتناب دیکھوں گا
جو خواہشوں کے سمندر میں پڑ گیا پائوں
میں اپنا آپ وہیں غرقِ آب دیکھوں گا
موازنہ کیلئے آ گیا ہوں ساحل پر
زیادہ کس میں ہے اب اضطراب دیکھوں گا
مجھے خبر ہے وہ مخلص نہیں مگر احسن
چڑھا ہوا ہے جو رخ پر نقاب دیکھوں گا Ahsan Mirza
ابھی تو جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھوں گا
بھلے سے کچھ بھی نہ کہہ التفات پر میرے
میں تیرے چہرے پہ تیرا جواب دیکھوں گا
مجھے یقیں ہے کہ وقتِ جدائی آنے پر
میں تیرا عکس کہیں زیرِ آب دیکھوں گا
میں تیرے جذب سے خود کو نکال سکتا تھا
خبر نہیں تھی ترا اجتناب دیکھوں گا
جو خواہشوں کے سمندر میں پڑ گیا پائوں
میں اپنا آپ وہیں غرقِ آب دیکھوں گا
موازنہ کیلئے آ گیا ہوں ساحل پر
زیادہ کس میں ہے اب اضطراب دیکھوں گا
مجھے خبر ہے وہ مخلص نہیں مگر احسن
چڑھا ہوا ہے جو رخ پر نقاب دیکھوں گا Ahsan Mirza
میں آپ، بعدِ محبت بدل گیا کتنا وہی ہے عکس بظاہر مگر جدا کتنا
فریبِ حسن، سرِ آئینہ جچا کتنا
ہے مستعار ہراک سانس زندگی تیری
یہ قرض لے تو لیا ہے، ادا ہوا کتنا
یہ عاجزی مرے لہجے میں کب سے در آئی
میں آپ، بعدِ محبت بدل گیا کتنا
کبھی جو خود ہی خلافِ رضا چلا جائوں
تو سوچتا ہوں میں خود سے ہوں آشنا کتنا
ہوا نے جب مرے گھر کی کواڑ کو چھیڑا
نہ پوچھ شک ترے آنے کا پھر ہوا کتنا
رکھا ہے اس نے ابھی تک وہ جذبہٗ ناکام
یہ دل بھی اس سے زیادہ کرے، بتا کتنا
تلاشِ ذات میں منزل کسے ملی احسن
چہار سمت سو اپنے میں گھومتا کتنا
Ahsan Mirza
فریبِ حسن، سرِ آئینہ جچا کتنا
ہے مستعار ہراک سانس زندگی تیری
یہ قرض لے تو لیا ہے، ادا ہوا کتنا
یہ عاجزی مرے لہجے میں کب سے در آئی
میں آپ، بعدِ محبت بدل گیا کتنا
کبھی جو خود ہی خلافِ رضا چلا جائوں
تو سوچتا ہوں میں خود سے ہوں آشنا کتنا
ہوا نے جب مرے گھر کی کواڑ کو چھیڑا
نہ پوچھ شک ترے آنے کا پھر ہوا کتنا
رکھا ہے اس نے ابھی تک وہ جذبہٗ ناکام
یہ دل بھی اس سے زیادہ کرے، بتا کتنا
تلاشِ ذات میں منزل کسے ملی احسن
چہار سمت سو اپنے میں گھومتا کتنا
Ahsan Mirza
کہتی ہے کچھ تو اُس کی حیا غور سے سنو کہتی ہے کچھ تو اُس کی حیا غور سے سنو
‘طوفاں کی آرہی ہے صدا غور سے سنو‘
آنکھوں سے، ابروئوں سے، تبسم سے، زلف سے
ہوگا بیاں نئے سے نیا غور سے سنو
لازم ہیں کچھ تو ایسی محبت میں زخم بھی
ڈھارس بندھا رہی ہے وفا غور سے سنو
صحرا کے طول و عرض پہ پھیلا ہے اب جنوں
تم نے عبث ہے مجھ سے کہا غور سے سنو
ممکن ہے آرزو نہ رہے گی مگر صنم
کیا، کیا نہ ہوگا حشر بپا غور سے سنو
آہٹ بتا رہی ہے کہیں وہ قریب ہے
ممکن ہے دل تو رک کے ذزا غور سے سنو
اچھا نہیں ذکرِ محبت اِدھر اُدھر
دل میں رکھو یہ راز ذرا غور سے سنو
فرقت میں اک دعائے تجلی جو مانگ لی
کیا، کیا نہ طورِ دل پہ ہوا غور سے سنو
پردے پڑے ہیں عقل پہ احسن کرو بھی ختم
ایسے کبھی سخن بھی ہوا غور سے سنو
(کچھ فل البدیہہ طرحی اشعار احباب کی نذر) Ahsan Mirza
‘طوفاں کی آرہی ہے صدا غور سے سنو‘
آنکھوں سے، ابروئوں سے، تبسم سے، زلف سے
ہوگا بیاں نئے سے نیا غور سے سنو
لازم ہیں کچھ تو ایسی محبت میں زخم بھی
ڈھارس بندھا رہی ہے وفا غور سے سنو
صحرا کے طول و عرض پہ پھیلا ہے اب جنوں
تم نے عبث ہے مجھ سے کہا غور سے سنو
ممکن ہے آرزو نہ رہے گی مگر صنم
کیا، کیا نہ ہوگا حشر بپا غور سے سنو
آہٹ بتا رہی ہے کہیں وہ قریب ہے
ممکن ہے دل تو رک کے ذزا غور سے سنو
اچھا نہیں ذکرِ محبت اِدھر اُدھر
دل میں رکھو یہ راز ذرا غور سے سنو
فرقت میں اک دعائے تجلی جو مانگ لی
کیا، کیا نہ طورِ دل پہ ہوا غور سے سنو
پردے پڑے ہیں عقل پہ احسن کرو بھی ختم
ایسے کبھی سخن بھی ہوا غور سے سنو
(کچھ فل البدیہہ طرحی اشعار احباب کی نذر) Ahsan Mirza
زندگی تجھ سے شکایت ہی کہاں تھی لیکن زندگی تجھ سے شکایت ہی کہاں تھی لیکن
تیری تلخی، میرے لہجے سے عیاں تھی لیکن
کہہ نہ پائے دمِ رخصت کہ ملیں گے ہم، تم
کچھ تو خواہش پسِ اندازِ بیاں تھی لیکن
عذر بھی، شکوے، شکایت بھی مراسم میں رہے
اک محبت بھی کہیں دل میں نہاں تھی لیکن
ضبط ہر غم پہ کِیا، جھیل گیا ہر طوفاں
اک تری حسرتِ ناکام گراں تھی لیکن
خاک چھانی ہے مرے عزمِ سفر نے احسن
میری منزل میری آنکھوں سے نہاں تھی لیکن Ahsan Mirza
تیری تلخی، میرے لہجے سے عیاں تھی لیکن
کہہ نہ پائے دمِ رخصت کہ ملیں گے ہم، تم
کچھ تو خواہش پسِ اندازِ بیاں تھی لیکن
عذر بھی، شکوے، شکایت بھی مراسم میں رہے
اک محبت بھی کہیں دل میں نہاں تھی لیکن
ضبط ہر غم پہ کِیا، جھیل گیا ہر طوفاں
اک تری حسرتِ ناکام گراں تھی لیکن
خاک چھانی ہے مرے عزمِ سفر نے احسن
میری منزل میری آنکھوں سے نہاں تھی لیکن Ahsan Mirza
شہرِ دل میں بسی رہیں یادیں شہرِ دل میں بسی رہیں یادیں
ہاتھ باندھے کھڑی رہیں یادیں
دیپ حسرت کے شامِ فرقت میں
بجھ گئے پر جلی رہیں یادیں
جس کا لکھا تھا ہجر قسمت میں
وصل اس کا بنی رہیں یادیں
تلخ لمحے گزر گئے، لیکن
حیف! منہ پر کھڑی رہیں یادیں
ہوگیا سب نظر سے اوجھل پر
دیر تک دیکھتی رہیں یادیں
سب پہ لایا اثر گزرتا وقت
پھر بھی احسن بچی رہیں یادیں Ahsan Mirza
ہاتھ باندھے کھڑی رہیں یادیں
دیپ حسرت کے شامِ فرقت میں
بجھ گئے پر جلی رہیں یادیں
جس کا لکھا تھا ہجر قسمت میں
وصل اس کا بنی رہیں یادیں
تلخ لمحے گزر گئے، لیکن
حیف! منہ پر کھڑی رہیں یادیں
ہوگیا سب نظر سے اوجھل پر
دیر تک دیکھتی رہیں یادیں
سب پہ لایا اثر گزرتا وقت
پھر بھی احسن بچی رہیں یادیں Ahsan Mirza
محبت رقص کرتی ہے دلوں میں چھپ نہیں سکتی
نگاہیں بول پڑتی ہیں
کبھی اشکوں کو پلکوں پر سجائے بین کرتی ہے
بہت بے چین کرتی ہے
حیا کی روشنی معنی بدل کر لب پر آتی ہے
سکوتِ وصل میں اکثر
یہی باتیں کراتی ہے
ہزاروں بردہء باطن میں چھپ کر بھی سرِ محفل
نگاہِ شوق کی گردش
وفائوں کا بتاتی ہے
سرِ محفل یہ الفت کے
ہزاروں دشمنوں کے بیچ
کہاں خاموش رہتی ہے
کہاں تہمت سے ڈرتی ہے
محبت رقص کرتی ہے Ahsan Mirza
نگاہیں بول پڑتی ہیں
کبھی اشکوں کو پلکوں پر سجائے بین کرتی ہے
بہت بے چین کرتی ہے
حیا کی روشنی معنی بدل کر لب پر آتی ہے
سکوتِ وصل میں اکثر
یہی باتیں کراتی ہے
ہزاروں بردہء باطن میں چھپ کر بھی سرِ محفل
نگاہِ شوق کی گردش
وفائوں کا بتاتی ہے
سرِ محفل یہ الفت کے
ہزاروں دشمنوں کے بیچ
کہاں خاموش رہتی ہے
کہاں تہمت سے ڈرتی ہے
محبت رقص کرتی ہے Ahsan Mirza
عزمِ سفر چہرے پہ مرے گزری ہوئی تلخ کہانی
ماتھے پہ مرے نقشِ غمِ دہر عیاں ہے
پر دل میں مرے اب بھی تمنا کی ضیا سے
روشن مرے اندر، مرے خوابوں کا جہاں ہے
تقسیم ہوں خانوں میں کئی، بن کے ضرورت
میں عزل کی تکمیل میں سارا تو نہیں ہوں!
میں گردِ رہِ شوق سے منزل پہ نہ پہنچو؟
حالات کی تنگی سے میں ہارا تو نہیں ہوں!
ادراک ہے اس بات کا منزل ہے کہیں دور
چھالوں سے مرے پائوں چِھلے مجھ کو خبر ہے
زخموں کو لئے بیٹھا رہوں بیچ مسافت؟
مشکل سے کئی بڑھ کے مرا عزمِ سفر ہے Ahsan Mirza
ماتھے پہ مرے نقشِ غمِ دہر عیاں ہے
پر دل میں مرے اب بھی تمنا کی ضیا سے
روشن مرے اندر، مرے خوابوں کا جہاں ہے
تقسیم ہوں خانوں میں کئی، بن کے ضرورت
میں عزل کی تکمیل میں سارا تو نہیں ہوں!
میں گردِ رہِ شوق سے منزل پہ نہ پہنچو؟
حالات کی تنگی سے میں ہارا تو نہیں ہوں!
ادراک ہے اس بات کا منزل ہے کہیں دور
چھالوں سے مرے پائوں چِھلے مجھ کو خبر ہے
زخموں کو لئے بیٹھا رہوں بیچ مسافت؟
مشکل سے کئی بڑھ کے مرا عزمِ سفر ہے Ahsan Mirza
کسک اٹھی ہے کہیں دل میں، آ چکی ہو کیا؟ کسک اٹھی ہے کہیں دل میں، آ چکی ہو کیا؟
خبر ہماری محبت کی پا چکی ہو کیا؟
نظر میں پہلی سی الفت نہیں دکھائی دی
وہ ایک شام کا وعدہ بھلا چکی ہو کیا؟
شبِ فراق کا غم تھا بہت گراں، لیکن
وصال کی بھی تمنا مٹا چکی ہو کیا؟ِ
قریبِ منزلِ الفت پلٹ رہی ہو تم
تمام زخم ِ مسافت بھلا چکی ہو کیا؟
لکھا تھا جس پہ محبت سے نام احسن کا
ورق وہ ذات کا اپنی جلا چکی ہو کیا؟ Ahsan Mirza
خبر ہماری محبت کی پا چکی ہو کیا؟
نظر میں پہلی سی الفت نہیں دکھائی دی
وہ ایک شام کا وعدہ بھلا چکی ہو کیا؟
شبِ فراق کا غم تھا بہت گراں، لیکن
وصال کی بھی تمنا مٹا چکی ہو کیا؟ِ
قریبِ منزلِ الفت پلٹ رہی ہو تم
تمام زخم ِ مسافت بھلا چکی ہو کیا؟
لکھا تھا جس پہ محبت سے نام احسن کا
ورق وہ ذات کا اپنی جلا چکی ہو کیا؟ Ahsan Mirza
گرچہ رستہء محبت بھی نہیں تھا کم مرا خارزار ِ زندگانی ہو رہا ہے کم مرا
حسرتِ دل دیکھ آکر جا رہا ہے غم مرا
اعتبار ِ منزل ِ دل تھا کہ جب تم ساتھ تھے
گرچہ رستہء محبت بھی نہیں تھا کم مرا
وہ کہ جس کے ہجر میں، میں ڈھل گیا مثل ِ چراغ
کیوں جلاتا ہے دیا اب کے منانے غم مرا
میں بھی کِھل جاتا وفا کی آبیاری کے سبب
یوں تو پیش ِ مرگِ الفت تک رہا موسم مرا
میں کبھی محفل میں جس کی رونق ِ محفل رہا
اب وہی لیتا نہیں ہے نام بھی کم، کم مرا
وصل کے لمحات سارے شعر میں ڈھل کر مرے
بن گئے ہیں ساز میرے، لے مری، سرگم مرا
میں ہوں دنیا کی نظر میں اس لئے احسن بلند
بس وفا شیوہ رہی اور عجز سے سر خم مرا Ahsan Mirza
حسرتِ دل دیکھ آکر جا رہا ہے غم مرا
اعتبار ِ منزل ِ دل تھا کہ جب تم ساتھ تھے
گرچہ رستہء محبت بھی نہیں تھا کم مرا
وہ کہ جس کے ہجر میں، میں ڈھل گیا مثل ِ چراغ
کیوں جلاتا ہے دیا اب کے منانے غم مرا
میں بھی کِھل جاتا وفا کی آبیاری کے سبب
یوں تو پیش ِ مرگِ الفت تک رہا موسم مرا
میں کبھی محفل میں جس کی رونق ِ محفل رہا
اب وہی لیتا نہیں ہے نام بھی کم، کم مرا
وصل کے لمحات سارے شعر میں ڈھل کر مرے
بن گئے ہیں ساز میرے، لے مری، سرگم مرا
میں ہوں دنیا کی نظر میں اس لئے احسن بلند
بس وفا شیوہ رہی اور عجز سے سر خم مرا Ahsan Mirza
مزاحیہ مکالمہ (دو خواتین کے درمیان رشتے کیلئے ہونے والا مکالمہ)
پہلی خاتون
دیکھئے خالہ کوئی دلہن ہمارے لعل کی
اُس نے اپنے طور تو کوشش بہت ہر حال کی
میسجز پہ کر بھی دیکھی رات بھر گفت و شنید
جس سے آگے بڑھ سکی اُس کو تو حد ہے کال کی
شوق کی شدت تو دیکھیں گر نہ آیا بھی جواب
شدتِ جذبات میں مس کال پر مس کال کی
اتنا ننھا ہے ہمارا لعل نکلا ہی کہاں؟
جو پتا چلتی اِسے قیمت یہ آٹے دال کی
کچھ کماتا بھی نہیں ہے، جوڑ ایسا ڈھونڈئے
جس کو آتی ہو پکانی ڈش وغیرہ دال کی
عمر ہی کیا ہے بھلا بچہ ہے اپنے باپ کا
یہ الگ ہے جھڑ گئی کھیتی گھنیرے بال کی
دیکھئے خالہ کوئی احسن سا رشتہ لائیے
ایسے لڑکے کم ہوئے، حالت بری ہے حال کی
دوسری خاتون
ہاں بہن اک ہے تو دوشیزہ تمھارے کام کی
رہنے والی ہے یہی چھوٹے شہر کالام کی
خوب سیرت ہے ابھی، پہلے کی باتیں چھوڑئے
کون بولے گا کہ محبوبہ رہی گلفام کی
تھی جوانی اپنے جوبن پر کبھی شیلہ کی سی
ہاں مگر اُس نے کبھی منی نہیں بدنام کی
آپ کہئے تو میں عرضی ڈال دیتی ہوں اُدھر
پھر کبھی دعوت پہ چل دیں گے صبح یا شام کی Ahsan Mirza
پہلی خاتون
دیکھئے خالہ کوئی دلہن ہمارے لعل کی
اُس نے اپنے طور تو کوشش بہت ہر حال کی
میسجز پہ کر بھی دیکھی رات بھر گفت و شنید
جس سے آگے بڑھ سکی اُس کو تو حد ہے کال کی
شوق کی شدت تو دیکھیں گر نہ آیا بھی جواب
شدتِ جذبات میں مس کال پر مس کال کی
اتنا ننھا ہے ہمارا لعل نکلا ہی کہاں؟
جو پتا چلتی اِسے قیمت یہ آٹے دال کی
کچھ کماتا بھی نہیں ہے، جوڑ ایسا ڈھونڈئے
جس کو آتی ہو پکانی ڈش وغیرہ دال کی
عمر ہی کیا ہے بھلا بچہ ہے اپنے باپ کا
یہ الگ ہے جھڑ گئی کھیتی گھنیرے بال کی
دیکھئے خالہ کوئی احسن سا رشتہ لائیے
ایسے لڑکے کم ہوئے، حالت بری ہے حال کی
دوسری خاتون
ہاں بہن اک ہے تو دوشیزہ تمھارے کام کی
رہنے والی ہے یہی چھوٹے شہر کالام کی
خوب سیرت ہے ابھی، پہلے کی باتیں چھوڑئے
کون بولے گا کہ محبوبہ رہی گلفام کی
تھی جوانی اپنے جوبن پر کبھی شیلہ کی سی
ہاں مگر اُس نے کبھی منی نہیں بدنام کی
آپ کہئے تو میں عرضی ڈال دیتی ہوں اُدھر
پھر کبھی دعوت پہ چل دیں گے صبح یا شام کی Ahsan Mirza
پھر سے کشتی ڈبو رہا ہے تو، بار اتنا کیوں ڈھو رہا ہے تو؟
پھر سے کشتی ڈبو رہا ہے تو،
ٹوٹ کر جو بکھر گئے رشتے،
پھر لڑی میں پرو رہا ہے تو؟
اپنی آنکھوں کو تر کئے ، سارے
خشک منظر بھگو رہا ہے تو،
کچھ جو خوشیاں بھی مل رہی ہیں اب،
سیلِ غم میں ڈبو رہا ہے تو،
ہم کو رونے کی بھی نہیں فرصت،
اور مدت سے رو رہا ہے تو،
جڑ پکڑتی ہیں الفتیں جاں تک،
شجرِ الفت تو بو رہا ہے تو،
یوں ہی بھٹکے گا در بدر پیارے،
خاک صحرا کی ہو رہا ہے تو،
پی کے سجدے ادا نہیں ہوتے
دل نہیں داغ دھو رہا ہے تو
آپ ہی زخم آپ مرہم بھی
کتنا دلچسپ ہورہا ہے تو
تجھ پہ کہنے لگا غزل احسن
ہر گھڑی دل میں جو رہا ہے تو
Ahsan Mirza
پھر سے کشتی ڈبو رہا ہے تو،
ٹوٹ کر جو بکھر گئے رشتے،
پھر لڑی میں پرو رہا ہے تو؟
اپنی آنکھوں کو تر کئے ، سارے
خشک منظر بھگو رہا ہے تو،
کچھ جو خوشیاں بھی مل رہی ہیں اب،
سیلِ غم میں ڈبو رہا ہے تو،
ہم کو رونے کی بھی نہیں فرصت،
اور مدت سے رو رہا ہے تو،
جڑ پکڑتی ہیں الفتیں جاں تک،
شجرِ الفت تو بو رہا ہے تو،
یوں ہی بھٹکے گا در بدر پیارے،
خاک صحرا کی ہو رہا ہے تو،
پی کے سجدے ادا نہیں ہوتے
دل نہیں داغ دھو رہا ہے تو
آپ ہی زخم آپ مرہم بھی
کتنا دلچسپ ہورہا ہے تو
تجھ پہ کہنے لگا غزل احسن
ہر گھڑی دل میں جو رہا ہے تو
Ahsan Mirza
دل مجبور باتوں سے بہل جاتا تو کیا ہوتا دل مجبور باتوں سے بہل جاتا تو کیا ہوتا
وہی ہوتا جو ہونے کا خدا نے لکھ دیا ہوتا
مرے ساقی ترے اس حسن کی پیتا اگر نہ مئے
نفس کے آبگینے میں خیالِ کبریا ہو تا
نکل جاتی عناصر کے سلاسل سے جو اپنی جاں
مریضِ عشق ہوں آخر فنا ہو کر بقا ہو تا
مجھے گر یہ خبر پوتی تغافل آشنا ہو تم
عروجِ نشنگی میں غم کو پینے کا مزا ہوتا
خرد دیکھے جو مسجد میں جنوں دیکھے وہی دل میں
بھلا اس کشمکش میں کب خدا سا راز وا ہوتا
مری حسرت جو مجھ کو کچھ قریبِ ‘لا مکاں‘ کرتی
مرا اٹھنا عبادت اور مرا جھکنا دعا ہو تا
سفر پہ آسمانوں کے سواری میں خیالوں کی
کہاں تک جا سکا ہوتا، کہاں تک نا ر سہ ہوتا
زمینِ حضرتِ غالب نہیں ملتی جو لفظوں کو
کہاں جا کر بیاں کرتا، جو احسن میں بپا ہوتا Ahsan Mirza
وہی ہوتا جو ہونے کا خدا نے لکھ دیا ہوتا
مرے ساقی ترے اس حسن کی پیتا اگر نہ مئے
نفس کے آبگینے میں خیالِ کبریا ہو تا
نکل جاتی عناصر کے سلاسل سے جو اپنی جاں
مریضِ عشق ہوں آخر فنا ہو کر بقا ہو تا
مجھے گر یہ خبر پوتی تغافل آشنا ہو تم
عروجِ نشنگی میں غم کو پینے کا مزا ہوتا
خرد دیکھے جو مسجد میں جنوں دیکھے وہی دل میں
بھلا اس کشمکش میں کب خدا سا راز وا ہوتا
مری حسرت جو مجھ کو کچھ قریبِ ‘لا مکاں‘ کرتی
مرا اٹھنا عبادت اور مرا جھکنا دعا ہو تا
سفر پہ آسمانوں کے سواری میں خیالوں کی
کہاں تک جا سکا ہوتا، کہاں تک نا ر سہ ہوتا
زمینِ حضرتِ غالب نہیں ملتی جو لفظوں کو
کہاں جا کر بیاں کرتا، جو احسن میں بپا ہوتا Ahsan Mirza
تو نے کیوں اپنی تمنا کا گلہ گھوٹ لیا؟ (غربت کے ہاتھوں مجبور ماں سے یونیفارم کی فرمائش پوری نہ ہونے پر بچہ کی خودسوزی کے واقعہ پر)
میرے بچے تیرا اصرار میری آنکھوں پر
پر تجھے کیسے بتاتی کہ نئے کپڑوں سے
سلوٹیں حال ِ غریبی کی نہیں جا سکتی
تجھ کو یہ شوق کے اجلے سے نئے کپڑوں میں
روز ملبوس سویرے تو مدرسے جائے
تیری خواہش تھی کہ رنگوں سے مزین ہو لباس
تیری خواہش تو میرے چاند بجا تھی لیکن!
میں تجھے کیسے بتاتی کہ نئے کپڑوں کے
شوخ رنگوں میں تیری زرد سی رنگت بیٹا!
تیری حالت کا، غریبی کا پتہ دے دیگی
میں تھی مجبور، ڈر تھا کہ بتانے پہ تجھے
تیرے احساس جو کومل ہیں گلابوں کی طرح
ان حالات کی سختی سے کچل نہ جائیں!
تیری معصوم نگاہوں میں سجے سپنے سب
باعثِ حالِ غریبی مچل نہ جائیں!
دیکھو بچے میرے، اٹھ جائو، سنو بات میری!
میں نے سب بیچ کے رنگوں سے مزین کپڑے
تیری خواہش پہ خریدے ہیں بڑی چاہ کے ساتھ
مجھ سے کچھ بات کرو، دیکھ تو لو چاند میرے!
کیسے لگتے ہیں؟
بھلے ہیں یا برے لگتے ہیں؟
یہ جو کپڑے تیرے نازک سے بدن پر ہیں اب
تیرے خواہش کے مخالف ہیں، بہت سادہ ہیں
اٹھ بھی جائو نہ میری جان، بتائو مجھ کو،
تو نے کیوں اپنی تمنا کا گلہ گھوٹ لیا؟ Ahsan Mirza
میرے بچے تیرا اصرار میری آنکھوں پر
پر تجھے کیسے بتاتی کہ نئے کپڑوں سے
سلوٹیں حال ِ غریبی کی نہیں جا سکتی
تجھ کو یہ شوق کے اجلے سے نئے کپڑوں میں
روز ملبوس سویرے تو مدرسے جائے
تیری خواہش تھی کہ رنگوں سے مزین ہو لباس
تیری خواہش تو میرے چاند بجا تھی لیکن!
میں تجھے کیسے بتاتی کہ نئے کپڑوں کے
شوخ رنگوں میں تیری زرد سی رنگت بیٹا!
تیری حالت کا، غریبی کا پتہ دے دیگی
میں تھی مجبور، ڈر تھا کہ بتانے پہ تجھے
تیرے احساس جو کومل ہیں گلابوں کی طرح
ان حالات کی سختی سے کچل نہ جائیں!
تیری معصوم نگاہوں میں سجے سپنے سب
باعثِ حالِ غریبی مچل نہ جائیں!
دیکھو بچے میرے، اٹھ جائو، سنو بات میری!
میں نے سب بیچ کے رنگوں سے مزین کپڑے
تیری خواہش پہ خریدے ہیں بڑی چاہ کے ساتھ
مجھ سے کچھ بات کرو، دیکھ تو لو چاند میرے!
کیسے لگتے ہیں؟
بھلے ہیں یا برے لگتے ہیں؟
یہ جو کپڑے تیرے نازک سے بدن پر ہیں اب
تیرے خواہش کے مخالف ہیں، بہت سادہ ہیں
اٹھ بھی جائو نہ میری جان، بتائو مجھ کو،
تو نے کیوں اپنی تمنا کا گلہ گھوٹ لیا؟ Ahsan Mirza
مسخ کیا کرو گے تم؟ مسخ کیا کرو گے تم؟
میرے دل کے گلشن کو
جس کے کونے کونے میں
تازگی ہے، رونق ہے
رنگ جہاں برستے ہیں
خشبوئیں مہکتی ہیں
مسخ کیا کرو گے تم؟
یہ جو آب نفرت کا
پھینکتے ہو چہرے پر
اس سے کچھ نہیں ہوتا
میرے جذبے ویسے ہی
خوبرو، توانا ہے
مسخ کیا کرو گے تم؟
ظاہری نگاہوں سے
حوصلے نہیں دِکھتے
تیری ان جفائوں سے
ولولے نہیں دِبتے
حوصلے یہ کہتے ہیں
مسخ کیا کرو گے تم؟
تم جو یہ سمجھتے ہو
چھین لو گے چہرے سے
تازگی کو، رونق کو
میں ہوں رونقِ دنیا
میرے دم سے مستقبل
مسخ کیا کرو گے تم؟
میری گود مدرسہ ہے
آنے والی نسلوں کا
اور میرے شب کے سجدوں سے
آنے والی نسلوں کی
قسمتیں بدلتی ہیں
مسخ کیا کرو گے تم؟
میں نے تیری نفرت سے
خود کو اب جِلا دی ہے
آنے والی نسلوں کو
ہمتِ صدا دی ہے
آنے والی نسلوں کا
ہر جوان پوچھے گا
مسخ کیا کرو گے تم؟
Ahsan Mirza
میرے دل کے گلشن کو
جس کے کونے کونے میں
تازگی ہے، رونق ہے
رنگ جہاں برستے ہیں
خشبوئیں مہکتی ہیں
مسخ کیا کرو گے تم؟
یہ جو آب نفرت کا
پھینکتے ہو چہرے پر
اس سے کچھ نہیں ہوتا
میرے جذبے ویسے ہی
خوبرو، توانا ہے
مسخ کیا کرو گے تم؟
ظاہری نگاہوں سے
حوصلے نہیں دِکھتے
تیری ان جفائوں سے
ولولے نہیں دِبتے
حوصلے یہ کہتے ہیں
مسخ کیا کرو گے تم؟
تم جو یہ سمجھتے ہو
چھین لو گے چہرے سے
تازگی کو، رونق کو
میں ہوں رونقِ دنیا
میرے دم سے مستقبل
مسخ کیا کرو گے تم؟
میری گود مدرسہ ہے
آنے والی نسلوں کا
اور میرے شب کے سجدوں سے
آنے والی نسلوں کی
قسمتیں بدلتی ہیں
مسخ کیا کرو گے تم؟
میں نے تیری نفرت سے
خود کو اب جِلا دی ہے
آنے والی نسلوں کو
ہمتِ صدا دی ہے
آنے والی نسلوں کا
ہر جوان پوچھے گا
مسخ کیا کرو گے تم؟
Ahsan Mirza