کہتی ہے کچھ تو اُس کی حیا غور سے سنو
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiکہتی ہے کچھ تو اُس کی حیا غور سے سنو
‘طوفاں کی آرہی ہے صدا غور سے سنو‘
آنکھوں سے، ابروئوں سے، تبسم سے، زلف سے
ہوگا بیاں نئے سے نیا غور سے سنو
لازم ہیں کچھ تو ایسی محبت میں زخم بھی
ڈھارس بندھا رہی ہے وفا غور سے سنو
صحرا کے طول و عرض پہ پھیلا ہے اب جنوں
تم نے عبث ہے مجھ سے کہا غور سے سنو
ممکن ہے آرزو نہ رہے گی مگر صنم
کیا، کیا نہ ہوگا حشر بپا غور سے سنو
آہٹ بتا رہی ہے کہیں وہ قریب ہے
ممکن ہے دل تو رک کے ذزا غور سے سنو
اچھا نہیں ذکرِ محبت اِدھر اُدھر
دل میں رکھو یہ راز ذرا غور سے سنو
فرقت میں اک دعائے تجلی جو مانگ لی
کیا، کیا نہ طورِ دل پہ ہوا غور سے سنو
پردے پڑے ہیں عقل پہ احسن کرو بھی ختم
ایسے کبھی سخن بھی ہوا غور سے سنو
(کچھ فل البدیہہ طرحی اشعار احباب کی نذر)
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






