وفا میں تیری میں یہ بھی سراب دیکھوں گا
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiوفا میں تیری میں یہ بھی سراب دیکھوں گا
ابھی تو جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھوں گا
بھلے سے کچھ بھی نہ کہہ التفات پر میرے
میں تیرے چہرے پہ تیرا جواب دیکھوں گا
مجھے یقیں ہے کہ وقتِ جدائی آنے پر
میں تیرا عکس کہیں زیرِ آب دیکھوں گا
میں تیرے جذب سے خود کو نکال سکتا تھا
خبر نہیں تھی ترا اجتناب دیکھوں گا
جو خواہشوں کے سمندر میں پڑ گیا پائوں
میں اپنا آپ وہیں غرقِ آب دیکھوں گا
موازنہ کیلئے آ گیا ہوں ساحل پر
زیادہ کس میں ہے اب اضطراب دیکھوں گا
مجھے خبر ہے وہ مخلص نہیں مگر احسن
چڑھا ہوا ہے جو رخ پر نقاب دیکھوں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






