کسک اٹھی ہے کہیں دل میں، آ چکی ہو کیا؟
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiکسک اٹھی ہے کہیں دل میں، آ چکی ہو کیا؟
خبر ہماری محبت کی پا چکی ہو کیا؟
نظر میں پہلی سی الفت نہیں دکھائی دی
وہ ایک شام کا وعدہ بھلا چکی ہو کیا؟
شبِ فراق کا غم تھا بہت گراں، لیکن
وصال کی بھی تمنا مٹا چکی ہو کیا؟ِ
قریبِ منزلِ الفت پلٹ رہی ہو تم
تمام زخم ِ مسافت بھلا چکی ہو کیا؟
لکھا تھا جس پہ محبت سے نام احسن کا
ورق وہ ذات کا اپنی جلا چکی ہو کیا؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






