Poetries by Subhani
عجب زمانہ علم کی بیداری نے کر دیا ھوشیار فتنے کو
آنکھیں ترک حیا ہوئیں فاسق بنایا کتنے کو
کچھ بنے شاتر کچھ ہوئے مہرباں بعد حصول علم
نفس کی خرابی ہے کیسے سمجھائے بات حصول علم
کرتا ہے اب ظلم انساں تکبر و ہو ش میں
بگھڑا تو ابلیس بھی وہاں علم کی آغوش میں
یہ تو شمع ہے روشنائی کی جستجوء عدل ہو پروان
علم تو ہوا اس کو حاصل سچائی جس کا سمان Ali Subhani
آنکھیں ترک حیا ہوئیں فاسق بنایا کتنے کو
کچھ بنے شاتر کچھ ہوئے مہرباں بعد حصول علم
نفس کی خرابی ہے کیسے سمجھائے بات حصول علم
کرتا ہے اب ظلم انساں تکبر و ہو ش میں
بگھڑا تو ابلیس بھی وہاں علم کی آغوش میں
یہ تو شمع ہے روشنائی کی جستجوء عدل ہو پروان
علم تو ہوا اس کو حاصل سچائی جس کا سمان Ali Subhani
Badalna Perta Hai Dil Bhar Jaey Hasrato’n Se To Bata Dena
Jo Ho Jaey Khata Pal Bhar Mei Jata Dena
Na Badalna Fitrat Waqt Ki Aaghosh Mei’n
K Hai Nafrat Khudi Ko Niya Insaa’n Dena
Jo Banta Hai Yaado’n Ka Aangan Saath Mei
Bas Khaak Samaj K Usko Urra Dena
Ho Giya Aasa’n Jo Is Door Mein Ab
Ji’taa K Mohabbat Phr Ussey Ga’nwa Dena
Mei To Rahu’n Ta Umer Shuker Ik Dedaar Ka
Tujhy Jis Ki Hameesha Aa Ke Sadaa DenaHai Aarzo Ik Baar To DIL Se Dua Dena
Ho Sakay Apnay Nafs Ki Chaadar Jala Dena
Dil Bhar Jaey Hasrato’n Se To Bata Denaa Ali Subhani
Jo Ho Jaey Khata Pal Bhar Mei Jata Dena
Na Badalna Fitrat Waqt Ki Aaghosh Mei’n
K Hai Nafrat Khudi Ko Niya Insaa’n Dena
Jo Banta Hai Yaado’n Ka Aangan Saath Mei
Bas Khaak Samaj K Usko Urra Dena
Ho Giya Aasa’n Jo Is Door Mein Ab
Ji’taa K Mohabbat Phr Ussey Ga’nwa Dena
Mei To Rahu’n Ta Umer Shuker Ik Dedaar Ka
Tujhy Jis Ki Hameesha Aa Ke Sadaa DenaHai Aarzo Ik Baar To DIL Se Dua Dena
Ho Sakay Apnay Nafs Ki Chaadar Jala Dena
Dil Bhar Jaey Hasrato’n Se To Bata Denaa Ali Subhani
تحفہ مجھ پر رحمتوں کی بارش صدا ہوتی رہی
میں جھومتا ہی رہا اس خزانے میں
جس چیز کا بھی رہا مستحق کبھی یہ وجود
اس کا ہاتھ نہ رکا نعمتیں لٹانے میں
نزر خاک ہوئے تصور تاریکی کے سب
لفظ اقراء جو سماء گیا آشیانے میں
غموں کی پرواہ کیوں کر کرے بشر
لطف سرور جو گھیرے عبادت خانے میں
رگ جاں سے بھی قریب تر اس کی ذات
انساں کو نہ ہو مشکل کبھی پکارنے میں
کھنکھناتی نے سوچا جب وجود کے معنی
ہر لفظ کھول کر کیا بیاں سمجھانے میں
میرے لئے تو صرف الله کافی ہے بس
کہ اب نڈر ہی گھومتا پھروں زمانے میں
ہو شکر تا عمر سبحانی، اس عظیم تحفہ پر
قرآن و سنت جو ملی مسلم گھرانے میں Ali Subhani
میں جھومتا ہی رہا اس خزانے میں
جس چیز کا بھی رہا مستحق کبھی یہ وجود
اس کا ہاتھ نہ رکا نعمتیں لٹانے میں
نزر خاک ہوئے تصور تاریکی کے سب
لفظ اقراء جو سماء گیا آشیانے میں
غموں کی پرواہ کیوں کر کرے بشر
لطف سرور جو گھیرے عبادت خانے میں
رگ جاں سے بھی قریب تر اس کی ذات
انساں کو نہ ہو مشکل کبھی پکارنے میں
کھنکھناتی نے سوچا جب وجود کے معنی
ہر لفظ کھول کر کیا بیاں سمجھانے میں
میرے لئے تو صرف الله کافی ہے بس
کہ اب نڈر ہی گھومتا پھروں زمانے میں
ہو شکر تا عمر سبحانی، اس عظیم تحفہ پر
قرآن و سنت جو ملی مسلم گھرانے میں Ali Subhani
میرا تحفہ مجھ پہ رحمتوں کی بارش صدا ہوتی رہی
میں جھومتا ہی رہا اس خزانے میں
جس چیز کا بھی رہا مستحق یہ وجود
اس کا ہاتھ نہ رکا نعمتیں لٹانے میں
نذر خاک ہوئے تصور تاریکی کے سب
لفظ ‘اقراء‘ جو سماء گیا آشیانے میں
غموں کی پرواہ کیوں کر کرے خاکی
لطف سرور جو گھیرے عبادت خانے میں
رگ جاں سے بھی قریب تر اس کی زات
انساں کو نہ ہو مشکل کبھی پکارنے میں
کھنکھناتی مٹی نے سوچا جب وجود کے معنی
ہر لفظ کھول کر کیا بیاں سمجھانے میں
میرے لئے تو صرف الله کافی ہے لوگوں
کہ اب نڈر ہی گھومتا پھروں زمانے میں
ہو شکر تا عمر سبحانی،اس عظیم تحفہ پر
قران و سنت جو ملی مسلم گھرانے میں Ali Subhani
میں جھومتا ہی رہا اس خزانے میں
جس چیز کا بھی رہا مستحق یہ وجود
اس کا ہاتھ نہ رکا نعمتیں لٹانے میں
نذر خاک ہوئے تصور تاریکی کے سب
لفظ ‘اقراء‘ جو سماء گیا آشیانے میں
غموں کی پرواہ کیوں کر کرے خاکی
لطف سرور جو گھیرے عبادت خانے میں
رگ جاں سے بھی قریب تر اس کی زات
انساں کو نہ ہو مشکل کبھی پکارنے میں
کھنکھناتی مٹی نے سوچا جب وجود کے معنی
ہر لفظ کھول کر کیا بیاں سمجھانے میں
میرے لئے تو صرف الله کافی ہے لوگوں
کہ اب نڈر ہی گھومتا پھروں زمانے میں
ہو شکر تا عمر سبحانی،اس عظیم تحفہ پر
قران و سنت جو ملی مسلم گھرانے میں Ali Subhani
تبدیلی لوگ صنم کی خاطر نجانے کیا کیا مول لیتے ہیں
منگنی تو ہو جاتی ہے پر دوست بھول جاتے ہیں
کس قدر سرفروشی کی تمنا لئے اسے اپنا بنایا
تھوڑی سی ہمت دکھا کر ہو کیسے مقبول جاتے ہیں
گفتگو جو ہوئی تو دیکھے بدلتے ہوئے تیور
پہلے تو رہا انفرادی اب کے کہا ‘ہم‘ سکول جاتے ہیں
یہ کیسی تبدیلی آگئی تجھ میں اے میرے دوست
کہ اب کے بار ہمارے فون بے فضول جاتے ہیں Ali Subhani
منگنی تو ہو جاتی ہے پر دوست بھول جاتے ہیں
کس قدر سرفروشی کی تمنا لئے اسے اپنا بنایا
تھوڑی سی ہمت دکھا کر ہو کیسے مقبول جاتے ہیں
گفتگو جو ہوئی تو دیکھے بدلتے ہوئے تیور
پہلے تو رہا انفرادی اب کے کہا ‘ہم‘ سکول جاتے ہیں
یہ کیسی تبدیلی آگئی تجھ میں اے میرے دوست
کہ اب کے بار ہمارے فون بے فضول جاتے ہیں Ali Subhani
میرا بدلتا احساس اس کا خلوص شاید میرے دل کو بھا گیا
تھا میں سنگدل پھر کیوں من میں سما گیا
یہ وقت کی پلٹ تھی یا کہ اس کا سرور
نظر میں آئی چمک لب پہ اک نام آ گیا
لفظ میرے ٹھر جائیں جب آئے روبرو
محفل میں جیسے عشق کا پیغام آ گیا
میں تو تھا تاریک پر کیسی صحر ہوگئی
اب لگے ایسے دل میں جہاں تمام آ گیا
جھوم اٹھوں کہ کیفیت وجود بدل گئی
وفاء کا پہلا جیسے مجھے پیغام آ گیا
کل کائنات سے کہہ دوں گا اے سبحانی
عشق کا جس روز پہلا مجھے سلام آ گیا Ali Subhani
تھا میں سنگدل پھر کیوں من میں سما گیا
یہ وقت کی پلٹ تھی یا کہ اس کا سرور
نظر میں آئی چمک لب پہ اک نام آ گیا
لفظ میرے ٹھر جائیں جب آئے روبرو
محفل میں جیسے عشق کا پیغام آ گیا
میں تو تھا تاریک پر کیسی صحر ہوگئی
اب لگے ایسے دل میں جہاں تمام آ گیا
جھوم اٹھوں کہ کیفیت وجود بدل گئی
وفاء کا پہلا جیسے مجھے پیغام آ گیا
کل کائنات سے کہہ دوں گا اے سبحانی
عشق کا جس روز پہلا مجھے سلام آ گیا Ali Subhani
میرا عشق مجھے بادلوں میں اڑنے کی خوا ہش نے مارا
عشق دہر میں پڑ جانے کی آزمائش نے مارا
مجھ کو مارا زمانے کے فکر و تکرار کے جال
جس کو بھی نفس نے چاہا اس آسائش نے مارا
میں عشق کیوں کر کرتا عشق تو میرے اندر ہے بستا
میں وہ عشق نہیں سمجھتا جو عشق نزر کرے بدنام راہ
میرا عشق تو ہے سچائی، میرا عشق تو ہے پاکیزہ
میں اس عشق کو مسل دوں جو کرے ایماں شریزہ
اصل عشق تو بھولا اب یہ انساں اے سبحانی
مجھ کو تو ہوا تحفہ عشق، کیا جس نے دل شگفتہ Ali Subhani
عشق دہر میں پڑ جانے کی آزمائش نے مارا
مجھ کو مارا زمانے کے فکر و تکرار کے جال
جس کو بھی نفس نے چاہا اس آسائش نے مارا
میں عشق کیوں کر کرتا عشق تو میرے اندر ہے بستا
میں وہ عشق نہیں سمجھتا جو عشق نزر کرے بدنام راہ
میرا عشق تو ہے سچائی، میرا عشق تو ہے پاکیزہ
میں اس عشق کو مسل دوں جو کرے ایماں شریزہ
اصل عشق تو بھولا اب یہ انساں اے سبحانی
مجھ کو تو ہوا تحفہ عشق، کیا جس نے دل شگفتہ Ali Subhani
میری ملاقات دو گھونٹ پی لوں تو ضرب عشق کا سماں ہوتا ہے
جام کے پیالے میں ان کے لبوں کا گماں ہوتا ہے
احساس تنہائی کا دامن ٹوٹ جاتا ہے اس پل
کہ صنم دور ہوتے ہوئے بھی تو یہاں ہوتا ہے
ان سے ملنے کا بہانہ تو یہی ہے میرے پاس
ہوش و حواس میں ایسا منظر نصییب کہاں ہوتا ہے
بنا اجازت انہیں خیال میں لئے ہم مچلتے ہیں
مجھ بدنصیب خاکی سے اک یہی تو گناہ ہوتا ہے
نہیں کوئی گرفت مگر، محدود وقت لئے آتا
اک سانس بھی جسکے بن مشکل، کچھ پل مہماں ہوتا ہے
رگ جاں مہیں ہوتی محسوس ما نند طوفاں کی گھڑی
بعد جدائی جذبوں کا حال بھی آتش فشاں ہوتا ہے
بار بار ملتے کردار اک سے سفر میں کیوں کر
میں اس کا مسافراور وہ منزل کا نشاں ہوتا ہے
مگر بھول جاتا ہے بے مروت جاتے وقت اے سبحانی
اک ہی جھلک سے روشن میرے دل ک اجہاں ہوتا ہے Ali Subhani
جام کے پیالے میں ان کے لبوں کا گماں ہوتا ہے
احساس تنہائی کا دامن ٹوٹ جاتا ہے اس پل
کہ صنم دور ہوتے ہوئے بھی تو یہاں ہوتا ہے
ان سے ملنے کا بہانہ تو یہی ہے میرے پاس
ہوش و حواس میں ایسا منظر نصییب کہاں ہوتا ہے
بنا اجازت انہیں خیال میں لئے ہم مچلتے ہیں
مجھ بدنصیب خاکی سے اک یہی تو گناہ ہوتا ہے
نہیں کوئی گرفت مگر، محدود وقت لئے آتا
اک سانس بھی جسکے بن مشکل، کچھ پل مہماں ہوتا ہے
رگ جاں مہیں ہوتی محسوس ما نند طوفاں کی گھڑی
بعد جدائی جذبوں کا حال بھی آتش فشاں ہوتا ہے
بار بار ملتے کردار اک سے سفر میں کیوں کر
میں اس کا مسافراور وہ منزل کا نشاں ہوتا ہے
مگر بھول جاتا ہے بے مروت جاتے وقت اے سبحانی
اک ہی جھلک سے روشن میرے دل ک اجہاں ہوتا ہے Ali Subhani
کھلے قفل صبر کے ہوا آغاز گفتگو کا راہ درمیان سفر
ازل کی خاموشی ٹوٹی کسی یک موڑ جا کر
کر دی ظاہر اس نے اپنی وفا کی وسعت
مسرور دل ہوا میرا الفاظ زباں پا کر
رہتا تھا گم صم یونہی دیار عشق میں
توڑے قفل صبر کے دل کی بات لب پہ لا کر
انتظار اظہار میں کیسے گزرے دن اے سبحانی
کس قدر سمٹا ہوگا وہ خودی کو یونہی جلا کر Ali Subhani
ازل کی خاموشی ٹوٹی کسی یک موڑ جا کر
کر دی ظاہر اس نے اپنی وفا کی وسعت
مسرور دل ہوا میرا الفاظ زباں پا کر
رہتا تھا گم صم یونہی دیار عشق میں
توڑے قفل صبر کے دل کی بات لب پہ لا کر
انتظار اظہار میں کیسے گزرے دن اے سبحانی
کس قدر سمٹا ہوگا وہ خودی کو یونہی جلا کر Ali Subhani
اپنی حفاظت کسی محرومی و احساس کمتری میں نہ ہونا مبتلا
کہ غلط روش سے نہ کرلینا جا کے صلاح
لگن اور دلجمعی سے سنوار لے اپنا مستقبل
نہ بزدلوں سے جا کے نہ ہاتھ سے ہاتھ ملا
تنگدستی کو بدل ڈال اپنے زور بازو سے
شمع سے شمع کر روشن اندھیرے کر اجالا بنا
حوصلے پست یقیناً شکست دنیا کا دستور
بڑھنے کا ارادہ کر پھر عزت و مرتبہ کما
کر تلاش خود اعتمادی کا چھپا خزانہ
بلند حوصلہ لئے باطل کی جڑ کو دے ہلا
غفلت کی دلدل سے اٹھنا ہے پھر اے سبحانی
جو سمجھ گیا خودی کو، کانٹوں کو دے گا ہٹا Ali Subhani
کہ غلط روش سے نہ کرلینا جا کے صلاح
لگن اور دلجمعی سے سنوار لے اپنا مستقبل
نہ بزدلوں سے جا کے نہ ہاتھ سے ہاتھ ملا
تنگدستی کو بدل ڈال اپنے زور بازو سے
شمع سے شمع کر روشن اندھیرے کر اجالا بنا
حوصلے پست یقیناً شکست دنیا کا دستور
بڑھنے کا ارادہ کر پھر عزت و مرتبہ کما
کر تلاش خود اعتمادی کا چھپا خزانہ
بلند حوصلہ لئے باطل کی جڑ کو دے ہلا
غفلت کی دلدل سے اٹھنا ہے پھر اے سبحانی
جو سمجھ گیا خودی کو، کانٹوں کو دے گا ہٹا Ali Subhani
اے پیاری ماں اک انمول سے ہے یہ جہاں
بن جس کے کوئ احساس نہیں
اے پیاری ماں
کچھ بھی نہیں اگر تو پاس نہیں
تیری آغوش ہے جیسے جنت
ہے ہر شب تمنا
تو مجھ کو پھر وہاں سلائے
تیرا خوشبو بھرا پیار آنکھوں کی ٹھنڈک
احساس غم مجھے بھلائے
ہر لمحہ کی تمنا
تو میرے پاس آئے مجھ کو پھر سے ڈانٹے
اے پیاری ماں
محبت تیری عظیم تر
جہاں کوئی پہنچ نہ پائے
تو ایسی لوری سنائے سب وہم دھل جائیں
رہی آرزو صدا
تیرے قدموں میں زندگی گزرے
جنہیں چوم کر یہ قلب
اپنے سارے غم مٹائے
اے پیاری ماں
مجھے آغوش میں بھر لے
اس ظلم کی دنیا سے دور کر لے
تھک گیا وجود
بدل دے میرا احساس، چاہتا ہوں
ایسی ٹھنڈی ہوا دے
اے پیاری ماں
مجھے آغوش میں بھر لے
دنیاں کی نظر سے دور کر لے Ali Subhani
بن جس کے کوئ احساس نہیں
اے پیاری ماں
کچھ بھی نہیں اگر تو پاس نہیں
تیری آغوش ہے جیسے جنت
ہے ہر شب تمنا
تو مجھ کو پھر وہاں سلائے
تیرا خوشبو بھرا پیار آنکھوں کی ٹھنڈک
احساس غم مجھے بھلائے
ہر لمحہ کی تمنا
تو میرے پاس آئے مجھ کو پھر سے ڈانٹے
اے پیاری ماں
محبت تیری عظیم تر
جہاں کوئی پہنچ نہ پائے
تو ایسی لوری سنائے سب وہم دھل جائیں
رہی آرزو صدا
تیرے قدموں میں زندگی گزرے
جنہیں چوم کر یہ قلب
اپنے سارے غم مٹائے
اے پیاری ماں
مجھے آغوش میں بھر لے
اس ظلم کی دنیا سے دور کر لے
تھک گیا وجود
بدل دے میرا احساس، چاہتا ہوں
ایسی ٹھنڈی ہوا دے
اے پیاری ماں
مجھے آغوش میں بھر لے
دنیاں کی نظر سے دور کر لے Ali Subhani
دس حال بیگانے نوں کھا لے تھوڑا چھڈ دے جھوٹ دے کھانے نوں
دس اپنے حال بیگانے نوں
کوئی اشق دے سرہانے بیٹھا اے
کوئی فرض نبھانے بیٹھا اے
کوئی لے کے قرض دا بوجھ
ہس ہس کے نجانے سہندا اے
کوئی مطلب دے دائرے وچ رہندا اے
کوئی اپنی زات وچ ہی بہندا اے
اے مندے جھوٹے زمانے نوں
دس اپنے حال بیگانے نوں
کوئی نکا وڈا دین حق وچ نئی
جیڑا جھوٹ اے کدی سچ وچ نئی
گناہ ودائے ساڈی ضد و تکبر
ایماں دی کھری او رت وچ نئی
اے انساں دی تفریق کردے نے
حق کوئی منگے تے چڑدے نے
اے پلے نفس پرانے نوں
دس اپنے حال بیگانے نوں
قربت ملدی فقیراں نوں
کاوں کوسن ا تقدیراں نوں
حال نمانے تو آپ پہچانے
بدل لے ہتھ دی لکیراں نوں
پر پتر منافقت دے اوگاندے نے
تے چنے کوڑ دے چباندے نے
کون کوسے اس زمانے نوں
دس اپنے حال بیگانے نوں
چھڈ دے پھڑنا کسے دی چادر
دل وچ کر لے عشق الہی صادر
ٹر پے ایماں دے بنے اتے
نہ بھول ہر شے تے او ھی قادر
پر انساں بھلکڑ رہندا اے
جان بجھ کے نادانیاں سہندا اے
زرا ویکھ اپنے گریبانے نوں
دس اپنے حال بیگانے نوں Subhani
دس اپنے حال بیگانے نوں
کوئی اشق دے سرہانے بیٹھا اے
کوئی فرض نبھانے بیٹھا اے
کوئی لے کے قرض دا بوجھ
ہس ہس کے نجانے سہندا اے
کوئی مطلب دے دائرے وچ رہندا اے
کوئی اپنی زات وچ ہی بہندا اے
اے مندے جھوٹے زمانے نوں
دس اپنے حال بیگانے نوں
کوئی نکا وڈا دین حق وچ نئی
جیڑا جھوٹ اے کدی سچ وچ نئی
گناہ ودائے ساڈی ضد و تکبر
ایماں دی کھری او رت وچ نئی
اے انساں دی تفریق کردے نے
حق کوئی منگے تے چڑدے نے
اے پلے نفس پرانے نوں
دس اپنے حال بیگانے نوں
قربت ملدی فقیراں نوں
کاوں کوسن ا تقدیراں نوں
حال نمانے تو آپ پہچانے
بدل لے ہتھ دی لکیراں نوں
پر پتر منافقت دے اوگاندے نے
تے چنے کوڑ دے چباندے نے
کون کوسے اس زمانے نوں
دس اپنے حال بیگانے نوں
چھڈ دے پھڑنا کسے دی چادر
دل وچ کر لے عشق الہی صادر
ٹر پے ایماں دے بنے اتے
نہ بھول ہر شے تے او ھی قادر
پر انساں بھلکڑ رہندا اے
جان بجھ کے نادانیاں سہندا اے
زرا ویکھ اپنے گریبانے نوں
دس اپنے حال بیگانے نوں Subhani
یاد خالق شکوے گلے مٹا لئے تو نے اپنی انا کے
عہد و پیماں نبھا لئے تو نے تو انساں سے
ہے اک اور رشتہ اس مکاں سے زرا ہٹ کر
ہے تعلق بھی جسکا تیرے دل کے جہاں سے
قریب ہے جو تیری شہ رگ سے بالاتر
دور ہو رہے ہو تم بھی اس راز گماں سے
اک بار کی زندگی وقت بھی نہیں پلٹتا
ہے نصیحت یہی بچ جاؤ تم اس رائیگاں سے
توحید و رسالت(صہ) ہے پہچانے مومن اے سبحانی
دل ہوا تب مردہ نسبت ہوئی شیطاں سے Subhani
عہد و پیماں نبھا لئے تو نے تو انساں سے
ہے اک اور رشتہ اس مکاں سے زرا ہٹ کر
ہے تعلق بھی جسکا تیرے دل کے جہاں سے
قریب ہے جو تیری شہ رگ سے بالاتر
دور ہو رہے ہو تم بھی اس راز گماں سے
اک بار کی زندگی وقت بھی نہیں پلٹتا
ہے نصیحت یہی بچ جاؤ تم اس رائیگاں سے
توحید و رسالت(صہ) ہے پہچانے مومن اے سبحانی
دل ہوا تب مردہ نسبت ہوئی شیطاں سے Subhani