کھلے قفل صبر کے
Poet: Subhani By: Ali Subhani, sargodhaہوا آغاز گفتگو کا راہ درمیان سفر
ازل کی خاموشی ٹوٹی کسی یک موڑ جا کر
کر دی ظاہر اس نے اپنی وفا کی وسعت
مسرور دل ہوا میرا الفاظ زباں پا کر
رہتا تھا گم صم یونہی دیار عشق میں
توڑے قفل صبر کے دل کی بات لب پہ لا کر
انتظار اظہار میں کیسے گزرے دن اے سبحانی
کس قدر سمٹا ہوگا وہ خودی کو یونہی جلا کر
More Love / Romantic Poetry






