میری ملاقات

Poet: Ali Subhani By: Ali Subhani, sargodha

دو گھونٹ پی لوں تو ضرب عشق کا سماں ہوتا ہے
جام کے پیالے میں ان کے لبوں کا گماں ہوتا ہے

احساس تنہائی کا دامن ٹوٹ جاتا ہے اس پل
کہ صنم دور ہوتے ہوئے بھی تو یہاں ہوتا ہے

ان سے ملنے کا بہانہ تو یہی ہے میرے پاس
ہوش و حواس میں ایسا منظر نصییب کہاں ہوتا ہے

بنا اجازت انہیں خیال میں لئے ہم مچلتے ہیں
مجھ بدنصیب خاکی سے اک یہی تو گناہ ہوتا ہے

نہیں کوئی گرفت مگر، محدود وقت لئے آتا
اک سانس بھی جسکے بن مشکل، کچھ پل مہماں ہوتا ہے

رگ جاں مہیں ہوتی محسوس ما نند طوفاں کی گھڑی
بعد جدائی جذبوں کا حال بھی آتش فشاں ہوتا ہے

بار بار ملتے کردار اک سے سفر میں کیوں کر
میں اس کا مسافراور وہ منزل کا نشاں ہوتا ہے

مگر بھول جاتا ہے بے مروت جاتے وقت اے سبحانی
اک ہی جھلک سے روشن میرے دل ک اجہاں ہوتا ہے

Rate it:
Views: 898
03 Feb, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL