میری ملاقات
Poet: Ali Subhani By: Ali Subhani, sargodhaدو گھونٹ پی لوں تو ضرب عشق کا سماں ہوتا ہے
جام کے پیالے میں ان کے لبوں کا گماں ہوتا ہے
احساس تنہائی کا دامن ٹوٹ جاتا ہے اس پل
کہ صنم دور ہوتے ہوئے بھی تو یہاں ہوتا ہے
ان سے ملنے کا بہانہ تو یہی ہے میرے پاس
ہوش و حواس میں ایسا منظر نصییب کہاں ہوتا ہے
بنا اجازت انہیں خیال میں لئے ہم مچلتے ہیں
مجھ بدنصیب خاکی سے اک یہی تو گناہ ہوتا ہے
نہیں کوئی گرفت مگر، محدود وقت لئے آتا
اک سانس بھی جسکے بن مشکل، کچھ پل مہماں ہوتا ہے
رگ جاں مہیں ہوتی محسوس ما نند طوفاں کی گھڑی
بعد جدائی جذبوں کا حال بھی آتش فشاں ہوتا ہے
بار بار ملتے کردار اک سے سفر میں کیوں کر
میں اس کا مسافراور وہ منزل کا نشاں ہوتا ہے
مگر بھول جاتا ہے بے مروت جاتے وقت اے سبحانی
اک ہی جھلک سے روشن میرے دل ک اجہاں ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







