Poetries by Amber shahid
اجلی ھوئی سحر مدت کے بعد آئی ھے اجلی ھوئی سحر
کتنے ھی رنگ لائی ھے اجلی ھوئی سحر
بجھنے لگی تمام مرے دل کی تشنگی
بن کے گھٹا سی چھائی ھے اجلی ھوئی سحر
ملتی ھر ایک کو ھے اگر ڈھونڈ لے کوئی
ھر روح میں سمائی ھے اجلی ھوئی سحر
مٹنے لگی ھیں میرے گماں کی وہ ظلمتیں
کیسا یہ نور لائی ھے اجلی ھوئی سحر
ان رتجگوں سے کوئی بہی شکوہ نھیں رہا
عنبر جو میں نے پائی ھے اجلی ھوئی سحر amber shahid
کتنے ھی رنگ لائی ھے اجلی ھوئی سحر
بجھنے لگی تمام مرے دل کی تشنگی
بن کے گھٹا سی چھائی ھے اجلی ھوئی سحر
ملتی ھر ایک کو ھے اگر ڈھونڈ لے کوئی
ھر روح میں سمائی ھے اجلی ھوئی سحر
مٹنے لگی ھیں میرے گماں کی وہ ظلمتیں
کیسا یہ نور لائی ھے اجلی ھوئی سحر
ان رتجگوں سے کوئی بہی شکوہ نھیں رہا
عنبر جو میں نے پائی ھے اجلی ھوئی سحر amber shahid
تلاش کرو اپنے غم میں خوشی تلاش کرو
آنسوؤں میں ہنسی تلاش کرو
بے وفا ہوگئے سبھی اپنے
اب کوئی اجنبی تلاش کرو
شہر میں ہر طرف درندے ہیں
گاؤں میں آدمی تلاش کرو
مل ہی جائے گی معرفت تم کو
عشق میں بے خودی تلاش کرو
ہونا چاہو اگر مکمل تم
خود میں کوئی کمی تلاش کرو
ہے تصنع سے بھری یہ دنیا
تم زرا سادگی تلاش کرو
ہے تمنا جو خود کو پانے کی
عنبر اپنی خودی تلاش کرو amber shahid
آنسوؤں میں ہنسی تلاش کرو
بے وفا ہوگئے سبھی اپنے
اب کوئی اجنبی تلاش کرو
شہر میں ہر طرف درندے ہیں
گاؤں میں آدمی تلاش کرو
مل ہی جائے گی معرفت تم کو
عشق میں بے خودی تلاش کرو
ہونا چاہو اگر مکمل تم
خود میں کوئی کمی تلاش کرو
ہے تصنع سے بھری یہ دنیا
تم زرا سادگی تلاش کرو
ہے تمنا جو خود کو پانے کی
عنبر اپنی خودی تلاش کرو amber shahid
نایاب لمحہ پیار میں ڈوبے دو لفظوں نے مجھ کو یوں سیراب کیا
جاگتی آنکھوں سے میرے ان سب لمحوں کو خواب کیا
تیری چاہت کی دھیمی سی لو پر سلگی رات میری
تیرے لہجے کی ٹھنڈک نے پھر مجھ کو برفاب کیا
اتنی محبت مجھ سے کر کے تم مجھ کو تڑپاتے ہو
اپنی اس بے تابی سے مجھ کو تم نے بے تاب کیا
کتنی گھڑیاں گزر گئیں اور کتنے مواسم بیت چلے
جس میں تھا اظہار ہوا بس وہ لمحہ نایاب کیا
اس کی وفاؤں سے اے عنبر من میں کھلے ہیں پھول کئی
اس کے پیار نے جیون کا پھر ہر موسم شاداب کیا amber shahid
جاگتی آنکھوں سے میرے ان سب لمحوں کو خواب کیا
تیری چاہت کی دھیمی سی لو پر سلگی رات میری
تیرے لہجے کی ٹھنڈک نے پھر مجھ کو برفاب کیا
اتنی محبت مجھ سے کر کے تم مجھ کو تڑپاتے ہو
اپنی اس بے تابی سے مجھ کو تم نے بے تاب کیا
کتنی گھڑیاں گزر گئیں اور کتنے مواسم بیت چلے
جس میں تھا اظہار ہوا بس وہ لمحہ نایاب کیا
اس کی وفاؤں سے اے عنبر من میں کھلے ہیں پھول کئی
اس کے پیار نے جیون کا پھر ہر موسم شاداب کیا amber shahid
رات کے آنچل میں چھپ کے رو دئیے رات کے آنچل میں چھپ کے رو دئیے
لے کے چادر پھر دکھوں کی سو دئیے
ان کو پا کر کچھ نہیں پایا مگر
پاس تھے جو چند سپنے کھو دئیے
ہم کو تو اپنائیت سے جو ملا
بس اسی کے سنگ ہم تو ہو دئیے
اب گلوں سے بھی مہک آتی نہیں
یہ عدُو نے بیج کیسے بو دئیے
سوُنا سوُنا یہ جہاں لگنے لگا
کیسے کیسے لوگ ہم نے کھو دئیے Amber Shahid
لے کے چادر پھر دکھوں کی سو دئیے
ان کو پا کر کچھ نہیں پایا مگر
پاس تھے جو چند سپنے کھو دئیے
ہم کو تو اپنائیت سے جو ملا
بس اسی کے سنگ ہم تو ہو دئیے
اب گلوں سے بھی مہک آتی نہیں
یہ عدُو نے بیج کیسے بو دئیے
سوُنا سوُنا یہ جہاں لگنے لگا
کیسے کیسے لوگ ہم نے کھو دئیے Amber Shahid
سرخ آنکھوں سے عیاں دیدار کی مستی ہوئی سرخ آنکھوں سے عیاں دیدار کی مستی ہوئی
اور ان نظروں کی مستی پر فدا ہستی ہوئی
میں نے اس کو ایک پل کے واسطے سوچا تھا بس
ایک دم سے آگئی وہ سامنے ہستی ہوئی
جذبہ الفت ہوا جاتا ہے مہنگا دن بدن
بے وفائی عام ہے کیونکہ بڑی سستی ہوئی
مجھ کو لگتے ہیں سبھی انسان جیسے پتلیاں
جس میں اہل دل نہ ہوں وہ بھی کوئی بستی ہوئی
پھیلتا جاتا ہے نس نس میں یہ ہجراں کا سراب
آئی ہے ناگن جدائی کی مجھے ڈستی ہوئی
لے اڑے ہو یہ جو تم مجھ کو ستاروں کی طرف
اس بلندی کے مقدر میں اگر پستی ہوئی
میں تو وہ کہتی ہوں عنبر کہتا ہے جو میرا دل
میری حیثیت ہے کیا اور کیا میری ہستی ہوئی Amber Shahid
اور ان نظروں کی مستی پر فدا ہستی ہوئی
میں نے اس کو ایک پل کے واسطے سوچا تھا بس
ایک دم سے آگئی وہ سامنے ہستی ہوئی
جذبہ الفت ہوا جاتا ہے مہنگا دن بدن
بے وفائی عام ہے کیونکہ بڑی سستی ہوئی
مجھ کو لگتے ہیں سبھی انسان جیسے پتلیاں
جس میں اہل دل نہ ہوں وہ بھی کوئی بستی ہوئی
پھیلتا جاتا ہے نس نس میں یہ ہجراں کا سراب
آئی ہے ناگن جدائی کی مجھے ڈستی ہوئی
لے اڑے ہو یہ جو تم مجھ کو ستاروں کی طرف
اس بلندی کے مقدر میں اگر پستی ہوئی
میں تو وہ کہتی ہوں عنبر کہتا ہے جو میرا دل
میری حیثیت ہے کیا اور کیا میری ہستی ہوئی Amber Shahid
ہے تمہاری آزمائش ہے تمہاری آزمائش لا سکو گے تاب میں
ہے عیاں ہونے کی خواہش جلوہ نایاب میں
ہے اسے سب کچھ میسر پھر ہے کیسی جستجو
کس لیے بے چین ماہی پھر رہی ہے آب میں
اس کتاب زیست کا ہر ایک پہلو ہے نیا
آرزو لیکن وہی ہے اس کے ہر اک باب میں
کر دیا ہے میں نے خود کو اس طرح تیرے سپرد
جیسے خوشبو قید ہو جائے گل شاداب میں
اس نے زیر لب کیے تھے مجھ سے کچھ ایسے سوال
لاجواب آخر ہوئی میں محفل زرتاب میں
میں نے تو پردہ ہٹایا تھا رخ روشن سے بس
مچ گئی یہ کھلبلی پھر کیوں بھلا مہتاب ہیں
مانگے اس نے عاجزی سے زیست کے کچھ پل میرے
میں مگر انکار کر پائی نہیں آداب میں
داستان عشق گر کرنی پڑی مجھ کو رقم
زندگی کا میں تمہیں حاصل لکھوں القاب میں
سوچ تھی اس کی محافظ اور پہرے دار ضبط
دیکھ لی ہے وہ حقیقت میں نے عنبر خواب میں Amber Shahid
ہے عیاں ہونے کی خواہش جلوہ نایاب میں
ہے اسے سب کچھ میسر پھر ہے کیسی جستجو
کس لیے بے چین ماہی پھر رہی ہے آب میں
اس کتاب زیست کا ہر ایک پہلو ہے نیا
آرزو لیکن وہی ہے اس کے ہر اک باب میں
کر دیا ہے میں نے خود کو اس طرح تیرے سپرد
جیسے خوشبو قید ہو جائے گل شاداب میں
اس نے زیر لب کیے تھے مجھ سے کچھ ایسے سوال
لاجواب آخر ہوئی میں محفل زرتاب میں
میں نے تو پردہ ہٹایا تھا رخ روشن سے بس
مچ گئی یہ کھلبلی پھر کیوں بھلا مہتاب ہیں
مانگے اس نے عاجزی سے زیست کے کچھ پل میرے
میں مگر انکار کر پائی نہیں آداب میں
داستان عشق گر کرنی پڑی مجھ کو رقم
زندگی کا میں تمہیں حاصل لکھوں القاب میں
سوچ تھی اس کی محافظ اور پہرے دار ضبط
دیکھ لی ہے وہ حقیقت میں نے عنبر خواب میں Amber Shahid
محبت کیا ہے دھیمی سی اک آگ میں جلنا اور محبت کیا ہے
کچھ میٹھے جذبوں کا پلنا اور محبت کیا ہے
اَن کہی باتیں سن لینا اور خواب انوکھے تکنا
انجانی راہوں پہ چلنا اور محبت کیا ہے
زیست کے اونچے نیچے بوجھل پتھریلے رستوں پر
چلنا، رکنا پھر ہے چلنا اور محبت کیا ہے
ہر لمحے کے ساتھ ہے جیسے خود بھی گزرتے جانا
لمحوں کا یادوں میں ڈھلنا اور محبت کیا ہے
خواہش کی تتلی کو پکڑنے کی ہے تمنا عنبر
اور پھر ہاتھوں کو ملنا اور محبت کیا ہے
Amber Shahid
کچھ میٹھے جذبوں کا پلنا اور محبت کیا ہے
اَن کہی باتیں سن لینا اور خواب انوکھے تکنا
انجانی راہوں پہ چلنا اور محبت کیا ہے
زیست کے اونچے نیچے بوجھل پتھریلے رستوں پر
چلنا، رکنا پھر ہے چلنا اور محبت کیا ہے
ہر لمحے کے ساتھ ہے جیسے خود بھی گزرتے جانا
لمحوں کا یادوں میں ڈھلنا اور محبت کیا ہے
خواہش کی تتلی کو پکڑنے کی ہے تمنا عنبر
اور پھر ہاتھوں کو ملنا اور محبت کیا ہے
Amber Shahid
سنائی دی مجھے ایسے صدا کی خاموشی سنائی دی مجھے ایسے صدا کی خاموشی
سکوت شب میں ہو جیسے دعا کی خاموشی
عجب سکوت سا طاری تھا تیری محفل میں
کہ جیسے دشت میں کوئی بلا کی خاموشی
ہے کوئی بات مگر کوئی بھی نہیں کہتا
میں کیسے دیکھ سکوں گی فضا کی خاموشی
ہلا نہیں کوئی پتہ وہ ہُو کا عالم ہے
ہوا کبھی نہیں ہوتی ہوا کی خاموشی
یہ کیسا چھایا ہے میری گلی میں سناٹا
ہے سارے شہر میں کیا کربلا کی خاموشی
یہ سوچ کر ہی میرا دل دھڑکنے لگتا ہے
ڈبو نہ دے کہیں یہ ناخدا کی خاموشی
بکھر نہ جائے کہیں گلستاں کا شیرازہ
بتا رہی ہے یہ مجھ کو صبا کی خاموشی
وہ ایسے لمحوں میں عنبر نظر نہیں آئے
میرے لبوں پہ رہی انتہا کی خاموشی Amber Shahid
سکوت شب میں ہو جیسے دعا کی خاموشی
عجب سکوت سا طاری تھا تیری محفل میں
کہ جیسے دشت میں کوئی بلا کی خاموشی
ہے کوئی بات مگر کوئی بھی نہیں کہتا
میں کیسے دیکھ سکوں گی فضا کی خاموشی
ہلا نہیں کوئی پتہ وہ ہُو کا عالم ہے
ہوا کبھی نہیں ہوتی ہوا کی خاموشی
یہ کیسا چھایا ہے میری گلی میں سناٹا
ہے سارے شہر میں کیا کربلا کی خاموشی
یہ سوچ کر ہی میرا دل دھڑکنے لگتا ہے
ڈبو نہ دے کہیں یہ ناخدا کی خاموشی
بکھر نہ جائے کہیں گلستاں کا شیرازہ
بتا رہی ہے یہ مجھ کو صبا کی خاموشی
وہ ایسے لمحوں میں عنبر نظر نہیں آئے
میرے لبوں پہ رہی انتہا کی خاموشی Amber Shahid
میں نہیں تنہا کوئی رہتا ہے میرے پاس اب میں نہیں تنہا کوئی رہتا ہے میرے پاس اب
اک عجب اپنائیت کا ہوتا ہے احساس اب
خواب پھر سے کھل اٹھے اور اک نئی دنیا ملی
دھیرے دھیرے زندگی کی ہو رہی ہے آس اب
جانے کیوں لگتا ہے میں اور وہ سدا سے ایک ہیں
روح میں گھلنے لگا ہے یہ نیا احساس اب
چوٹ دل پر جو لگے تو مسکرا اٹھتی ہوں میں
ایسا لگتا ہے کہ غم آنے لگے ہیں راس اب
کم نہیں ہوتی ہے اب تو اس نظر کی تشنگی
ایک بس اس کو ہی تکنے کی مجھے ہے آس اب
چاند دیکھوں تو لگے وہ یاد کرتے ہیں ہمیں
پھولوں سے بھی آ رہی ہے اس کی ہی تو باس اب Amber Shahid
اک عجب اپنائیت کا ہوتا ہے احساس اب
خواب پھر سے کھل اٹھے اور اک نئی دنیا ملی
دھیرے دھیرے زندگی کی ہو رہی ہے آس اب
جانے کیوں لگتا ہے میں اور وہ سدا سے ایک ہیں
روح میں گھلنے لگا ہے یہ نیا احساس اب
چوٹ دل پر جو لگے تو مسکرا اٹھتی ہوں میں
ایسا لگتا ہے کہ غم آنے لگے ہیں راس اب
کم نہیں ہوتی ہے اب تو اس نظر کی تشنگی
ایک بس اس کو ہی تکنے کی مجھے ہے آس اب
چاند دیکھوں تو لگے وہ یاد کرتے ہیں ہمیں
پھولوں سے بھی آ رہی ہے اس کی ہی تو باس اب Amber Shahid
چلتی ہی جا رہی ہوں انجان راستوں پر چلتی ہی جا رہی ہوں انجان راستوں پر
حیرت میں گم ہوں خود بھی حیران راستوں پر
یادوں کے زخم جلتے ہیں اور بھی زیادہ
ملتا نہیں ہے کچھ بھی ویران راستوں پر
نبھتے نہیں ہیں رشتے راہوں میں بننے والے
کرنا نہ تم کسی سے پہچان راستوں پر
آندھی جو وقت کی ہے آکر مٹا نہ ڈالے
کیا لکھ رہی ہو تم اے نادان راستوں پر
ہاں کچھ نہ کچھ تو ہم میں بھی آشنائی ہوگی
ویراں سی پھر رہی ہوں ویران راستوں پر
جھیلا ہے ہم نے عنبر ان مشکلوں کو برسوں
کیسے چلیں بھلا اب آسان راستوں پر Amber Shahid
حیرت میں گم ہوں خود بھی حیران راستوں پر
یادوں کے زخم جلتے ہیں اور بھی زیادہ
ملتا نہیں ہے کچھ بھی ویران راستوں پر
نبھتے نہیں ہیں رشتے راہوں میں بننے والے
کرنا نہ تم کسی سے پہچان راستوں پر
آندھی جو وقت کی ہے آکر مٹا نہ ڈالے
کیا لکھ رہی ہو تم اے نادان راستوں پر
ہاں کچھ نہ کچھ تو ہم میں بھی آشنائی ہوگی
ویراں سی پھر رہی ہوں ویران راستوں پر
جھیلا ہے ہم نے عنبر ان مشکلوں کو برسوں
کیسے چلیں بھلا اب آسان راستوں پر Amber Shahid
وہ بھلا عہد وفا کب تھا نبھانے آیا وہ بھلا عہد وفا کب تھا نبھانے آیا
وہ تو اس بار بھی دل کو ہی دکھانے آیا
کیا خبر تھی مجھے وہ روٹھا ہوا ہے مجھ سے
میں تو سمجھی تھی کہ وہ مجھ کو منانے آیا
میں نے سوچا تھا سناؤں گی فسانہ اپنا
تھا کوئی اپنا ہی قصہ وہ سنانے آیا
دے گیا جاگتی آنکھوں کو سنہرے سپنے
جو میری نیند میرا چین چرانے آیا
لے کے انداز نیا اور نرالی باتیں
اک نئے طور سے وہ مجھ کو لبھانے آیا
ٹوٹا اک خواب حسیں اگلے ہی پل میں عنبر
تھا میری نیند سے وہ مجھ کو جگانے آیا Amber Shahid
وہ تو اس بار بھی دل کو ہی دکھانے آیا
کیا خبر تھی مجھے وہ روٹھا ہوا ہے مجھ سے
میں تو سمجھی تھی کہ وہ مجھ کو منانے آیا
میں نے سوچا تھا سناؤں گی فسانہ اپنا
تھا کوئی اپنا ہی قصہ وہ سنانے آیا
دے گیا جاگتی آنکھوں کو سنہرے سپنے
جو میری نیند میرا چین چرانے آیا
لے کے انداز نیا اور نرالی باتیں
اک نئے طور سے وہ مجھ کو لبھانے آیا
ٹوٹا اک خواب حسیں اگلے ہی پل میں عنبر
تھا میری نیند سے وہ مجھ کو جگانے آیا Amber Shahid
عافیہ صدیقی کی آواز کس کرب سے دوچار ہوں سنتا نہیں کوئی
کانٹے بھی میری راہ کے چنتا نہیں کوئی
اے اہلِ وطن آپ کی غیرت ہے کہاں پر
سوچا بھی نہیں آپ کی عزت ہے کہاں پر
اغیار نے کیا کیا نہ ستم مجھ پہ کیے ہیں
آندھی کے حوالے میری حسرت کے دئیے ہیں
اب آہ میں بھی میری نہیں کوئی اثر ہے
یہ قوم کی بیٹی ہے جو اب خاک بسر ہے
کب تک بھلا اغیار کی ٹھوکر میں رہوں میں
لپٹی ہوئی کیوں خاک کے بستر میں رہوں میں
اے اہلِ حکومت یہ مرا قرض ہے تم پر
انصاف مہیا کرو یہ فرض ہے تم پر Amber shahid
کانٹے بھی میری راہ کے چنتا نہیں کوئی
اے اہلِ وطن آپ کی غیرت ہے کہاں پر
سوچا بھی نہیں آپ کی عزت ہے کہاں پر
اغیار نے کیا کیا نہ ستم مجھ پہ کیے ہیں
آندھی کے حوالے میری حسرت کے دئیے ہیں
اب آہ میں بھی میری نہیں کوئی اثر ہے
یہ قوم کی بیٹی ہے جو اب خاک بسر ہے
کب تک بھلا اغیار کی ٹھوکر میں رہوں میں
لپٹی ہوئی کیوں خاک کے بستر میں رہوں میں
اے اہلِ حکومت یہ مرا قرض ہے تم پر
انصاف مہیا کرو یہ فرض ہے تم پر Amber shahid