چلتی ہی جا رہی ہوں انجان راستوں پر
Poet: Amber Shahid By: Amber Shahid, lahoreچلتی ہی جا رہی ہوں انجان راستوں پر
حیرت میں گم ہوں خود بھی حیران راستوں پر
یادوں کے زخم جلتے ہیں اور بھی زیادہ
ملتا نہیں ہے کچھ بھی ویران راستوں پر
نبھتے نہیں ہیں رشتے راہوں میں بننے والے
کرنا نہ تم کسی سے پہچان راستوں پر
آندھی جو وقت کی ہے آکر مٹا نہ ڈالے
کیا لکھ رہی ہو تم اے نادان راستوں پر
ہاں کچھ نہ کچھ تو ہم میں بھی آشنائی ہوگی
ویراں سی پھر رہی ہوں ویران راستوں پر
جھیلا ہے ہم نے عنبر ان مشکلوں کو برسوں
کیسے چلیں بھلا اب آسان راستوں پر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






