سنائی دی مجھے ایسے صدا کی خاموشی

Poet: Amber Shahid By: Amber Shahid, lahore

سنائی دی مجھے ایسے صدا کی خاموشی
سکوت شب میں ہو جیسے دعا کی خاموشی

عجب سکوت سا طاری تھا تیری محفل میں
کہ جیسے دشت میں کوئی بلا کی خاموشی

ہے کوئی بات مگر کوئی بھی نہیں کہتا
میں کیسے دیکھ سکوں گی فضا کی خاموشی

ہلا نہیں کوئی پتہ وہ ہُو کا عالم ہے
ہوا کبھی نہیں ہوتی ہوا کی خاموشی

یہ کیسا چھایا ہے میری گلی میں سناٹا
ہے سارے شہر میں کیا کربلا کی خاموشی

یہ سوچ کر ہی میرا دل دھڑکنے لگتا ہے
ڈبو نہ دے کہیں یہ ناخدا کی خاموشی

بکھر نہ جائے کہیں گلستاں کا شیرازہ
بتا رہی ہے یہ مجھ کو صبا کی خاموشی

وہ ایسے لمحوں میں عنبر نظر نہیں آئے
میرے لبوں پہ رہی انتہا کی خاموشی

Rate it:
Views: 742
07 May, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL