سرخ آنکھوں سے عیاں دیدار کی مستی ہوئی
Poet: Amber Shahid By: Amber Shahid, lahoreسرخ آنکھوں سے عیاں دیدار کی مستی ہوئی
اور ان نظروں کی مستی پر فدا ہستی ہوئی
میں نے اس کو ایک پل کے واسطے سوچا تھا بس
ایک دم سے آگئی وہ سامنے ہستی ہوئی
جذبہ الفت ہوا جاتا ہے مہنگا دن بدن
بے وفائی عام ہے کیونکہ بڑی سستی ہوئی
مجھ کو لگتے ہیں سبھی انسان جیسے پتلیاں
جس میں اہل دل نہ ہوں وہ بھی کوئی بستی ہوئی
پھیلتا جاتا ہے نس نس میں یہ ہجراں کا سراب
آئی ہے ناگن جدائی کی مجھے ڈستی ہوئی
لے اڑے ہو یہ جو تم مجھ کو ستاروں کی طرف
اس بلندی کے مقدر میں اگر پستی ہوئی
میں تو وہ کہتی ہوں عنبر کہتا ہے جو میرا دل
میری حیثیت ہے کیا اور کیا میری ہستی ہوئی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






