دل بےتاب
Poet: Fraz Mukhlis By: Sarfraz Anthony, Lahore
تا عمر ہم تو وقت کے گرداب میں رہے
مطلب تو پھر بھی یہی ہوا عذاب میں رہے
جب تو نہیں تو تیرا تجسس بھی ہے بیکار
پھر بھی تیری طلب دل بے تاب میں رہے
پھر کیسےاس کی تعریف ہو بیان
جس کا چہرہ ہی حجاب میں رہے
حکمت کا تقاضا کہ میں اس کو بھی سمجھوں
جو قطرہ چھپ کے پارہ سیماب میں رہے
نہ جانے کب وہ آئیں گے اب تک تو آئے
کب تک یہ سر جھکا ہوا آداب میں رہے
ہم نے تو دل کا حال کہا ان سے اور وہ
خاموش اس سوال کے جواب میں رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






