Diloon K Hakim Hain
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiDiloon K Hakim Hain Anmol Khazanay Walay
Mahfilain Loot K Lay Gay Muskaranay Walay
Dil Sa Uthti Thin Jinhain Daikh Kar Mojain Aksar
Wahi Tofan Thay Mari Kashti Ko Bahanay Walay
Khudara Ik Halka Sa Tabasum To Nazar Kijiay
Hath Dil Pa Rakhay Baithay Hain Chahnay Walay
Kitnay Sahraon Ko Gulshan Ki Surat Daikar
Khud To Tashna Lab Baithay Hain Pilanay Walay
Tari Surat Sa Bara Payar Ha Zamanay Ko
Kis Naz Sa Ya Banai Hogi Bananay Walay
Shab-E-Hijran Ya Ashkoon Na Bataya Humko
Ya Tari Hi Ata Hain Loot K Janay Walay
Rah-E-Ulfat K Musafir Ki Kahani Sun Kar
Toba Toba Bohat Kartay Hain Ashiyanay Walay,
Jan Lay Lo Hum Phir B Na Bholain Payaray
Hum To Mohabat K Sabi Naz Hain Uthanay Walay
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






