Poetries by Mir Yawar Abbas Balhami
گوہر نایاب (مکالمہ : دختر غربی و دختر اسلامی) :غرب زدگی کی شکار دختر
جہان رنگ و بو میں دیکھ میرا ہے سحر برپا
ادا کرتی ہے اک میری، جوانوں پر قہر برپا
جھلک میری جوان و پیر کو مدہوش کرتی ہے
جو ہیں باہوش اُن کو اک نظر بےہوش کرتی ہے
سبھی نظریں ٹھہرجاتی ہیں مجھ پر، جب میں چلتی ہوں
میری مٹھی میں ہے دنیا میں جو چاہوں وہ کرتی ہوں
:اسلام کی شاہکار دختر
بجا فرماتی ہو اے مغربی فکر و نظر والی
یہی حکمت ہے مغرب کی، حیا سے تو رہے خالی
رذیلوں کے لئے عیش و تماشا کر دیا تجھ کو
ہوس رانی کے دلدل میں مکمل بھر دیا تجھ کو
تیری فہم و فراست پر مسلط ہے یہی شیطاں
ہوا ہے تیری نظروں سے مقام و مرتبہ پنہاں
خدا اتنا توانا ہے، جمال و جاہ میں یکتا ہے
نہیں پھر بھی حجابوں سے کبھی باہر وہ آتا ہے
یہیں سے تم سمجھ لو جو بہت انمول شئی ہوگی
وہ ظاہر رہ نہیں سکتی حجابوں میں چھپی ہوگی
عطا کردی ہے نعمت یہ فقط اُس نے اک عورت کو
کہ ڈھانپا ہے حجابوں سے خود اس کی شکل و صورت کو
نہیں ہر ایک کی خاطر تجھے دی اس نے رعنائی
بہت انمول تیری ذات ہے سب اس کے شیدائی
حجاب اپنا گر کر راستہ سب کو دیا تو نے
گرا دی آبرو اپنی، گنوادی جو حیا تو نے
اگر حاصل تجھے پہچان اپنی ذات کی ہوتی
سماج و قوم کی حالت تو پھر کچھ اور ہی ہوتی
تو بے ہوشوں کو کر سکتی ہو داخل ہوشمندوں مںم
پھنسا سکتی ہو باطل کو تو خود اپنی کمندوں میں
تیری موجودگی پر انحصار ہے آدمیت کا
تیری آغوشِ الفت ہے دبستاں آدمیت کا
تیری نسبت ہے مریمؑ سے کہ معمارِ بشر تو ہے
ثمر انسانیت کا جس سے نکلے وہ شجر تو ہے
Yawar Abbas Balhami
جہان رنگ و بو میں دیکھ میرا ہے سحر برپا
ادا کرتی ہے اک میری، جوانوں پر قہر برپا
جھلک میری جوان و پیر کو مدہوش کرتی ہے
جو ہیں باہوش اُن کو اک نظر بےہوش کرتی ہے
سبھی نظریں ٹھہرجاتی ہیں مجھ پر، جب میں چلتی ہوں
میری مٹھی میں ہے دنیا میں جو چاہوں وہ کرتی ہوں
:اسلام کی شاہکار دختر
بجا فرماتی ہو اے مغربی فکر و نظر والی
یہی حکمت ہے مغرب کی، حیا سے تو رہے خالی
رذیلوں کے لئے عیش و تماشا کر دیا تجھ کو
ہوس رانی کے دلدل میں مکمل بھر دیا تجھ کو
تیری فہم و فراست پر مسلط ہے یہی شیطاں
ہوا ہے تیری نظروں سے مقام و مرتبہ پنہاں
خدا اتنا توانا ہے، جمال و جاہ میں یکتا ہے
نہیں پھر بھی حجابوں سے کبھی باہر وہ آتا ہے
یہیں سے تم سمجھ لو جو بہت انمول شئی ہوگی
وہ ظاہر رہ نہیں سکتی حجابوں میں چھپی ہوگی
عطا کردی ہے نعمت یہ فقط اُس نے اک عورت کو
کہ ڈھانپا ہے حجابوں سے خود اس کی شکل و صورت کو
نہیں ہر ایک کی خاطر تجھے دی اس نے رعنائی
بہت انمول تیری ذات ہے سب اس کے شیدائی
حجاب اپنا گر کر راستہ سب کو دیا تو نے
گرا دی آبرو اپنی، گنوادی جو حیا تو نے
اگر حاصل تجھے پہچان اپنی ذات کی ہوتی
سماج و قوم کی حالت تو پھر کچھ اور ہی ہوتی
تو بے ہوشوں کو کر سکتی ہو داخل ہوشمندوں مںم
پھنسا سکتی ہو باطل کو تو خود اپنی کمندوں میں
تیری موجودگی پر انحصار ہے آدمیت کا
تیری آغوشِ الفت ہے دبستاں آدمیت کا
تیری نسبت ہے مریمؑ سے کہ معمارِ بشر تو ہے
ثمر انسانیت کا جس سے نکلے وہ شجر تو ہے
Yawar Abbas Balhami
جام مے ( محسن حججی کی یاد میں) عاشقوں نے جامِ مے جب پا لیا
دامنِ دل، دہر سے چھڑوا لیا
ہو گئے آمادہ وہ بہرِ وصال
بس اُسی کی فکر میں محوِ خیال
جسم کو قربان گاہ پہنچا دیا
تیغ کا حلقوم سے بوسہ لیا
پانی پانی شرم سے خنجر ہوا
واسطہ کس فرد سے میرا پڑا
پُر سکون خنجر تلے ہوتا ہے کون؟
زیر خنجر مطمئن سوتا ہے کون؟
کس پہ یوں آرام سے دیتا ہے جان؟
کون وہ محبوب ہے یوں عالیشان؟
عشق میں تو باتیں ہی کرتے ہیں سب
لیکن اس عاشق کی حالت، العجب
جب سنی سرگوشی سَر نے تیغ کی
کہہ دیا اک نکتہ بس خاموش ہی
گر تو دیکھے جلوہ اُس معشوق کا
فارغ اِس ھستی سے تو ہو جاے گا
پھر اُسی کے وصل کو ترسے گا تو
بر زبان بس وِرد ہوگا اَللّه ھُو
کہہ کے یہ الفاظ وہ رخصت ہوا
کر گیا پرواز وہ سوئے خدا
میر تُو باتوں میں ہی الجھا رہا
حق کا وہ شیدائی حق سے جا ملا Yawar Abbas Balhami
دامنِ دل، دہر سے چھڑوا لیا
ہو گئے آمادہ وہ بہرِ وصال
بس اُسی کی فکر میں محوِ خیال
جسم کو قربان گاہ پہنچا دیا
تیغ کا حلقوم سے بوسہ لیا
پانی پانی شرم سے خنجر ہوا
واسطہ کس فرد سے میرا پڑا
پُر سکون خنجر تلے ہوتا ہے کون؟
زیر خنجر مطمئن سوتا ہے کون؟
کس پہ یوں آرام سے دیتا ہے جان؟
کون وہ محبوب ہے یوں عالیشان؟
عشق میں تو باتیں ہی کرتے ہیں سب
لیکن اس عاشق کی حالت، العجب
جب سنی سرگوشی سَر نے تیغ کی
کہہ دیا اک نکتہ بس خاموش ہی
گر تو دیکھے جلوہ اُس معشوق کا
فارغ اِس ھستی سے تو ہو جاے گا
پھر اُسی کے وصل کو ترسے گا تو
بر زبان بس وِرد ہوگا اَللّه ھُو
کہہ کے یہ الفاظ وہ رخصت ہوا
کر گیا پرواز وہ سوئے خدا
میر تُو باتوں میں ہی الجھا رہا
حق کا وہ شیدائی حق سے جا ملا Yawar Abbas Balhami
، در مدح پروفیسر اسد علی خورشید، شعبہ فارسی علیگڑ مسلم یونیورسٹی مرحبا استاد میرے خوب تر
مرحبا زیبا تر و محبوب تر
کس قدر دلکش تیری آواز ہے
بخش دیتی روح کو پرواز ہے
نغمہ ہے یا دل کا کوئی ساز ہے
منفرد پڑھانے کا انداز ہے
کس طرح سمجھا دیا اقبال کو
ماہ میں سمٹا دیا ایک سال کو
تھا میں صوفی نام سے بھی نابلد
واقعاً جادو ہے در نام اسد
علم سے روشن ہوا خاکی جسد
کارواں کا میر پروفیسر اسد
میر کی پوری دعا ہو اے خدا
فارسی شعبہ رہے پُر دم سدا Yawar Abbas Balhami
مرحبا زیبا تر و محبوب تر
کس قدر دلکش تیری آواز ہے
بخش دیتی روح کو پرواز ہے
نغمہ ہے یا دل کا کوئی ساز ہے
منفرد پڑھانے کا انداز ہے
کس طرح سمجھا دیا اقبال کو
ماہ میں سمٹا دیا ایک سال کو
تھا میں صوفی نام سے بھی نابلد
واقعاً جادو ہے در نام اسد
علم سے روشن ہوا خاکی جسد
کارواں کا میر پروفیسر اسد
میر کی پوری دعا ہو اے خدا
فارسی شعبہ رہے پُر دم سدا Yawar Abbas Balhami
ہوچکی دیرینہ اب وہ شمع و پروانے کی بات ہوچکی دیرینہ اب وہ شمع و پروانے کی بات
اب تو دیتی ہے ضرر کانوں کو افسانے کی بات
چھوڑ افسانوں کو دے آجا حقیقت کی طرف
مردہ تیری ہے خودی، کیا یہ نہیں رونے کی بات ؟
کر کے ذکر غیر تو غیروں کے مانند ہوگیا
اپنے ہو کر بھی، تیری لگتی ہے بیگانے کی بات
کان اپنے کھول کر سن لے صدا یہ میر کی
غیر کی جانب کیا رخ ، ہے یہ پچتانے کی بات Yawar Abbas Balhami
اب تو دیتی ہے ضرر کانوں کو افسانے کی بات
چھوڑ افسانوں کو دے آجا حقیقت کی طرف
مردہ تیری ہے خودی، کیا یہ نہیں رونے کی بات ؟
کر کے ذکر غیر تو غیروں کے مانند ہوگیا
اپنے ہو کر بھی، تیری لگتی ہے بیگانے کی بات
کان اپنے کھول کر سن لے صدا یہ میر کی
غیر کی جانب کیا رخ ، ہے یہ پچتانے کی بات Yawar Abbas Balhami
پیغام شھید النمر دے رہا ہے درس ہم کو شیخ باقر کا لہو
مت جھکانا سر کو اپنے ظلم کی چوکھٹ پہ تو
اٹھ کھڑا اور پھاڑ دے تو ظلم کے آئین کو
سر کٹا دینا مگر جھکنا نہیں پائین کو
پردہ باطل کو اپنی تیغ سے تو چاک کر
سر زمینِ پاک سے ناپاکیوں کو پاک کر
کر رہے ہیں راج بے دین، دین کے پوشاک میں
بیچتے ہیں دین کو بدلے خس وخاشاک میں
اپنے حق کو مانگنا بھی ، جرم ہوتا ہے شمار
چاہے خود کتنے گناہ ہوں وہ نہیں کرتے شمار
کٹ چکا ہے رشتہ ان کا عالمِ لاھوت سے
اپنی کرسی کی عبادت ، اور مدد طاغوت سے
ڈالروں اور زرپرستوں سے ہی انکو پیار ہے
حق سخنگو، حق پسندوں سے سدا انکار ہے
دے دیا ہے میں نے سر ، گر تجھ کو بھی دینا پڑے
اس مشن کی اک کڑی بن، چاہے کچھ سہنا پڑے
موت سے ڈرنا نہیں، ہے شہد سے شیرین تر
حق کی خاطر جان دے میراث ہے دیرین تر
ہو میسّر میر کو بھی اے خدا مرگِ شھید
بار گاہِ ایزدی میں باسعادت ہے شھید
Mir Yawar Abbas Balhami
مت جھکانا سر کو اپنے ظلم کی چوکھٹ پہ تو
اٹھ کھڑا اور پھاڑ دے تو ظلم کے آئین کو
سر کٹا دینا مگر جھکنا نہیں پائین کو
پردہ باطل کو اپنی تیغ سے تو چاک کر
سر زمینِ پاک سے ناپاکیوں کو پاک کر
کر رہے ہیں راج بے دین، دین کے پوشاک میں
بیچتے ہیں دین کو بدلے خس وخاشاک میں
اپنے حق کو مانگنا بھی ، جرم ہوتا ہے شمار
چاہے خود کتنے گناہ ہوں وہ نہیں کرتے شمار
کٹ چکا ہے رشتہ ان کا عالمِ لاھوت سے
اپنی کرسی کی عبادت ، اور مدد طاغوت سے
ڈالروں اور زرپرستوں سے ہی انکو پیار ہے
حق سخنگو، حق پسندوں سے سدا انکار ہے
دے دیا ہے میں نے سر ، گر تجھ کو بھی دینا پڑے
اس مشن کی اک کڑی بن، چاہے کچھ سہنا پڑے
موت سے ڈرنا نہیں، ہے شہد سے شیرین تر
حق کی خاطر جان دے میراث ہے دیرین تر
ہو میسّر میر کو بھی اے خدا مرگِ شھید
بار گاہِ ایزدی میں باسعادت ہے شھید
Mir Yawar Abbas Balhami