جام مے ( محسن حججی کی یاد میں)

Poet: میر یاور عباس بالہامی By: Yawar Abbas Balhami, Karachi

عاشقوں نے جامِ مے جب پا لیا
دامنِ دل، دہر سے چھڑوا لیا

ہو گئے آمادہ وہ بہرِ وصال
بس اُسی کی فکر میں محوِ خیال

جسم کو قربان گاہ پہنچا دیا
تیغ کا حلقوم سے بوسہ لیا

پانی پانی شرم سے خنجر ہوا
واسطہ کس فرد سے میرا پڑا

پُر سکون خنجر تلے ہوتا ہے کون؟
زیر خنجر مطمئن سوتا ہے کون؟

کس پہ یوں آرام سے دیتا ہے جان؟
کون وہ محبوب ہے یوں عالیشان؟

عشق میں تو باتیں ہی کرتے ہیں سب
لیکن اس عاشق کی حالت، العجب

جب سنی سرگوشی سَر نے تیغ کی
کہہ دیا اک نکتہ بس خاموش ہی

گر تو دیکھے جلوہ اُس معشوق کا
فارغ اِس ھستی سے تو ہو جاے گا

پھر اُسی کے وصل کو ترسے گا تو
بر زبان بس وِرد ہوگا اَللّه ھُو

کہہ کے یہ الفاظ وہ رخصت ہوا
کر گیا پرواز وہ سوئے خدا

میر تُو باتوں میں ہی الجھا رہا
حق کا وہ شیدائی حق سے جا ملا

Rate it:
Views: 911
04 Oct, 2020
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL