پیغام شھید النمر

Poet: میر یاور عباس بالھامی By: Mir Yawar Abbas Balhami, Balhama srinagar , j&k

دے رہا ہے درس ہم کو شیخ باقر کا لہو
مت جھکانا سر کو اپنے ظلم کی چوکھٹ پہ تو

اٹھ کھڑا اور پھاڑ دے تو ظلم کے آئین کو
سر کٹا دینا مگر جھکنا نہیں پائین کو

پردہ باطل کو اپنی تیغ سے تو چاک کر
سر زمینِ پاک سے ناپاکیوں کو پاک کر

کر رہے ہیں راج بے دین، دین کے پوشاک میں
بیچتے ہیں دین کو بدلے خس وخاشاک میں

اپنے حق کو مانگنا بھی ، جرم ہوتا ہے شمار
چاہے خود کتنے گناہ ہوں وہ نہیں کرتے شمار

کٹ چکا ہے رشتہ ان کا عالمِ لاھوت سے
اپنی کرسی کی عبادت ، اور مدد طاغوت سے

ڈالروں اور زرپرستوں سے ہی انکو پیار ہے
حق سخنگو، حق پسندوں سے سدا انکار ہے

دے دیا ہے میں نے سر ، گر تجھ کو بھی دینا پڑے
اس مشن کی اک کڑی بن، چاہے کچھ سہنا پڑے

موت سے ڈرنا نہیں، ہے شہد سے شیرین تر
حق کی خاطر جان دے میراث ہے دیرین تر

ہو میسّر میر کو بھی اے خدا مرگِ شھید
بار گاہِ ایزدی میں باسعادت ہے شھید

 

Rate it:
Views: 682
14 Feb, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL