Dukhti Hai
Poet: Ibnemakhmoor By: Ibn-e-Makhmoor, srinagarDukhti Hai Har Dhadkan Meri Ab Aah O Fugan Se
Bharti Hai Saans Zindagi Yoon Kis Ke Gumaan Se
Main Jaanta Nahin Yeh Wafa O Mehar Agar
Leta Hai Dil Angdayiyaan Kis Dard E Nihaan Se
Bikta Hai Wahan Hosh O Hidayat Hi Char Soo
Mere Liye Deewangi Aati Hai Jahan Se
Acha Ki Mere Haq Main Nahin Mere Shab O Roz
Shikwe Bade Hain Shaikh Ji Ko Waqt O Zaman Se
Jo Kal Hamare Ghar Ka Wo Manzar Haseen Tha
Udta Phire Hain Dasht Main Ab Raet E Rawaan Se
Ik Shouq Nazar Bas Meri Chahat W Ibadat
Jo Kuch Bhi Ayaan, Hai Yehi Paigam Rasaan Se
Yeh Ishq W Masti Bin E Makhmoor Gam Ki Wirasat
Qatra Hai Samandar Hova Is Dard E Geran Se
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






