Ek Pyaari Si Larki Hua Karti Thi
Poet: Talha Tallat By: Talha Tallat, LahoreEk Pyaari Si Larki Hua Karti Thi
Najanay Kyun Woh Achi Lagti Thi
Baathein Khoob Kiya Karti Thi
Chup Chup Kar Dekha Karti Thi
Ishq Ki Baathon Per Sharmaya Karti Thi
Shahid Koye Raaz Chupaya Karti Thi
Shahid Dil-O-Dil Main Muskuraya Thi
Najanay Kyun Pyaari Laga Karti Thi
Ussay Sunta Kay Dekhta
Uski Haar Chaal Suhani Laga Karti Thi
Pyaar Woh Ek Shakhs Kiya Karti Thi
Kuch Baath Thi Uskay Muskuranay Main
Shahid Dil Se Muskuraya Karti Thi
Sab Kuch Chor Meri Taraf Aya Karti Thi
Shahid Woh Mujhse Muhabbat Kiya Karti Thi
Ek Pyaari Si Larki Hua Karti Thi
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






