Poetries by Fida Sherazi
راحت قلب و جاں اُڑانے کو راحت قلب و جاں اُڑانے کو
ہم ملے ہیں بھرے زمانے کو
رقص ماہتاب ہم نے دیکھا ہے
دل کی دھڑکن کے آزمانے کو
اک زمانہ ہوا ہے خانہ خراب
ان کی نظروں میں گھر بسانے کو
دل کی دھڑکن سے پائلوں کی صدا
روز اُٹھتی ہے دل دُکھانے کو
سب کی نظریں ہیں ان کے چہرے پر
ہم بچے ہیں نظر جھکانے کو
کیا ہے زنجیر زلف کا عالم
ہم ہی جکڑے ہیں پیچ کھانے کو
اب کے تعظیم کو نہیں جاناں
سر جھکایا ہے سر کٹانے کو
اس آنا ہی گر نہیں تو فدا
آگ لگ جائے آشیانے کو Fida Sherazi
ہم ملے ہیں بھرے زمانے کو
رقص ماہتاب ہم نے دیکھا ہے
دل کی دھڑکن کے آزمانے کو
اک زمانہ ہوا ہے خانہ خراب
ان کی نظروں میں گھر بسانے کو
دل کی دھڑکن سے پائلوں کی صدا
روز اُٹھتی ہے دل دُکھانے کو
سب کی نظریں ہیں ان کے چہرے پر
ہم بچے ہیں نظر جھکانے کو
کیا ہے زنجیر زلف کا عالم
ہم ہی جکڑے ہیں پیچ کھانے کو
اب کے تعظیم کو نہیں جاناں
سر جھکایا ہے سر کٹانے کو
اس آنا ہی گر نہیں تو فدا
آگ لگ جائے آشیانے کو Fida Sherazi
سر سے سرک رہا ہے دوپٹہ سنبھالئے سر سے سرک رہا ہے دوپٹہ سنبھالئے
جاناں ہمیں نہ اور مصیبت میں ڈالئے
روشن جبیں ہیں آپ کی مانند آفتاب
زلفوں کو مت بکھیریے دن کو نہ ڈھالئے
کچھ بھی طلب نہیں ہمیں بزم جہاں سے
اک جام اور دیجئے پھر جاں نکالئے
ملنا نہیں تو پہلے سا اک عہد ہی سہی
کچھ تو خیال کیجئے یوں تو نہ ٹالئے
رنگ قضا کو دیکھ کے تقدیر رو پڑی
قبر فدا پہ موت نے آنسو بہا لئے Fida Sherazi
جاناں ہمیں نہ اور مصیبت میں ڈالئے
روشن جبیں ہیں آپ کی مانند آفتاب
زلفوں کو مت بکھیریے دن کو نہ ڈھالئے
کچھ بھی طلب نہیں ہمیں بزم جہاں سے
اک جام اور دیجئے پھر جاں نکالئے
ملنا نہیں تو پہلے سا اک عہد ہی سہی
کچھ تو خیال کیجئے یوں تو نہ ٹالئے
رنگ قضا کو دیکھ کے تقدیر رو پڑی
قبر فدا پہ موت نے آنسو بہا لئے Fida Sherazi
لڑکیاں دیکھتے ہیں جب سرِراہ آتی جاتی لڑکیاں
ہیں ادائے دلفریبی سے لبھاتی لڑکیاں
لوٹتی ہیں دل کی بستی سے ہر اک رنگِ حیات
چاہتوں کے گیت گا کر مسکراتی لڑکیاں
بیٹھتے ہیں کاسہ صد تشنگی ہم بھی لئے
دیکھتے جب کبھی کھلکھلاتی لڑکیاں
چھوڑتی ہیں خود سرِراہ اک نئے انداز سے
ہاتھ میں ہاتھوں کو ڈالے آزماتی لڑکیاں
بزمِ انجم سے نکل کر دیکھتے ہیں دور تک
رات کی تاریکیوں میں جاتی جاتی لڑکیاں
لونگ، کنگن نہ سہی کاغذ کا ٹکڑا ہی سہی
ڈوھونڈ کے لاتے ہمی کچھ تو گنواتی لڑکیاں
ہٹ ذرا اے ساقی مے خانہ ہم بھی دیکھ لیں
میکدے کی مستیوں میں لڑکھڑاتی لڑکیاں
میرغالب درد کے سب درد چھٹ جاتے اگر
محفلوں میں بن سنور کے آتی جاتی لڑکیاں
نغمہ دلگیر ہم نے لکھ دیا لیکن اِسے
لطف آتا محفلوں میں گنگناتی لڑکیاں
دل کے اوپر ہی سجاتے ساغر و مینا فدا
گر شرابوں میں شرابیں خود ملاتی لڑکیاں Fida Sherazi
ہیں ادائے دلفریبی سے لبھاتی لڑکیاں
لوٹتی ہیں دل کی بستی سے ہر اک رنگِ حیات
چاہتوں کے گیت گا کر مسکراتی لڑکیاں
بیٹھتے ہیں کاسہ صد تشنگی ہم بھی لئے
دیکھتے جب کبھی کھلکھلاتی لڑکیاں
چھوڑتی ہیں خود سرِراہ اک نئے انداز سے
ہاتھ میں ہاتھوں کو ڈالے آزماتی لڑکیاں
بزمِ انجم سے نکل کر دیکھتے ہیں دور تک
رات کی تاریکیوں میں جاتی جاتی لڑکیاں
لونگ، کنگن نہ سہی کاغذ کا ٹکڑا ہی سہی
ڈوھونڈ کے لاتے ہمی کچھ تو گنواتی لڑکیاں
ہٹ ذرا اے ساقی مے خانہ ہم بھی دیکھ لیں
میکدے کی مستیوں میں لڑکھڑاتی لڑکیاں
میرغالب درد کے سب درد چھٹ جاتے اگر
محفلوں میں بن سنور کے آتی جاتی لڑکیاں
نغمہ دلگیر ہم نے لکھ دیا لیکن اِسے
لطف آتا محفلوں میں گنگناتی لڑکیاں
دل کے اوپر ہی سجاتے ساغر و مینا فدا
گر شرابوں میں شرابیں خود ملاتی لڑکیاں Fida Sherazi
وہ بے مثال ہی حسن و جمال رکھتا ہے وہ بے مثال ہی حسن و جمال رکھتا ہے
خزاں کی رُت کو مصیبت میں ڈال رکھتا ہے
چلے جو وہ نجومی بھی زائچے دیکھیں
زمین پر بھی ستاروں کی چال رکھتا ہے
وہ جس کا سامنا کرنے سے چاند گھبرائے
رُخِ نفیس پہ سورج سے گال رکھتا ہے
صبا بھی ساتھ سلیقے کے چھیڑتی ہے اُسے
وہ موسمِ گلِ لالہ کی فال رکھتا ہے
ہے اُس کی مست طبیعت وہ خوش سخن بھی تو ہے
جو لفظ لفظ سے گوہر نکال رکھتا ہے
گلوں کے رس پہ پلی تتلیاں بھی رشک کریں
وہ جب بھی شانوں پہ ریشم کی شال رکھتا ہے
وہ تیری روح کا مالک نہ تیرے جسم کا ہے
فدا تُو دھول بھی جس کی سنبھال رکھتا ہے Fida Sherazi
خزاں کی رُت کو مصیبت میں ڈال رکھتا ہے
چلے جو وہ نجومی بھی زائچے دیکھیں
زمین پر بھی ستاروں کی چال رکھتا ہے
وہ جس کا سامنا کرنے سے چاند گھبرائے
رُخِ نفیس پہ سورج سے گال رکھتا ہے
صبا بھی ساتھ سلیقے کے چھیڑتی ہے اُسے
وہ موسمِ گلِ لالہ کی فال رکھتا ہے
ہے اُس کی مست طبیعت وہ خوش سخن بھی تو ہے
جو لفظ لفظ سے گوہر نکال رکھتا ہے
گلوں کے رس پہ پلی تتلیاں بھی رشک کریں
وہ جب بھی شانوں پہ ریشم کی شال رکھتا ہے
وہ تیری روح کا مالک نہ تیرے جسم کا ہے
فدا تُو دھول بھی جس کی سنبھال رکھتا ہے Fida Sherazi
شراب عشق شراب عشق پلاؤ بڑا اندھیرا ہے
نظر نظر سے ملاؤ بڑا اندھیرا ہے
بس ایک لمس کی حدت سے روشنی پھیلے
تم اپنا ہاتھ بڑھاؤ بڑا اندھیرا ہے
کہاں سے دامن صحرا میں آفتاب اُترے
ذرا سی زلف ہٹاؤ بڑا اندھیرا ہے
نگاہ یار سے پیہم جو مئے چھلکتی ہے
اُسی سے جام بناؤ بڑا اندھیرا ہے
پیامبر کی زبانی پیام کیا دیتے
ہمیں نہ اور رلاؤ بڑا اندھیرا ہے
جلا کے اپنے ہی ہاتھوں سے خاک کر ڈالا
نہ دل کی راکھ اُڑاؤ بڑا اندھیرا ہے
تمہیں جو میری طلب ہی نہیں تو جان فدا
مجھے بھی تم نہ ستاؤ بڑا اندھیرا ہے Fida Sherazi
نظر نظر سے ملاؤ بڑا اندھیرا ہے
بس ایک لمس کی حدت سے روشنی پھیلے
تم اپنا ہاتھ بڑھاؤ بڑا اندھیرا ہے
کہاں سے دامن صحرا میں آفتاب اُترے
ذرا سی زلف ہٹاؤ بڑا اندھیرا ہے
نگاہ یار سے پیہم جو مئے چھلکتی ہے
اُسی سے جام بناؤ بڑا اندھیرا ہے
پیامبر کی زبانی پیام کیا دیتے
ہمیں نہ اور رلاؤ بڑا اندھیرا ہے
جلا کے اپنے ہی ہاتھوں سے خاک کر ڈالا
نہ دل کی راکھ اُڑاؤ بڑا اندھیرا ہے
تمہیں جو میری طلب ہی نہیں تو جان فدا
مجھے بھی تم نہ ستاؤ بڑا اندھیرا ہے Fida Sherazi
پھر کسی روز ملو رات پھر ٹوٹ گیا میرے خوابوں کا نقاب
رات پھر میں نے تصور میں تجھے جان لیا
تیرے ہونٹوں کی ہنسی تیرے حسین لب کا ملاپ
جیسے اُجڑے ہوئے باغوں میں کوئی کھلتا گلاب
رُخ پہ جلتے ہوئے انگاروں کی سی لالی اور تپش
ہاتھ چھو کر بھی کئی بار جلائے میں نے
تو نے جُوڑے بندھی زلفوں کو جو آزادی دی
تیرے شانوں پہ بکھر آئے حسین ساز کے تار
میں نے انگلی کی شرارت سے سراہا جو انہیں
چھڑ گیا خود ہی سے دیپک کی طرح کوئی سا راگ
میرا ماتھا بھی پسینے میں شرابور ہوا
تیرے ہونٹوں کے کناروں پہ بھی شبنم پھیلی
میری آنکھوں میں بھی تسکین کی مستی آئی
تیری آنکھوں میں بھی گلرنگ سے ڈورے پھیلے
تیرے لب میرے لبوں میں جونہی پیوست ہوئے
میرے مخمور بدن میں وہ حرارت آئی
میں نے خود اپنے بدن کو ایسے بے باک کیا
تو نے پھر اپنے گریبان کو صد چاک کیا
تیرے تن میرے بدن میں ایسی مستی آئی
راستے خود ہی سے پاتال کے کھلتے ہی گئے
ہوش اُڑتے ہی گئے جسم ملتے ہی گئے
خواب پھر خواب، حقیقت کو فسانہ نہ کرو
پھر کسی روز ملو، پھر کسی روز ملو Fida Sherazi
رات پھر میں نے تصور میں تجھے جان لیا
تیرے ہونٹوں کی ہنسی تیرے حسین لب کا ملاپ
جیسے اُجڑے ہوئے باغوں میں کوئی کھلتا گلاب
رُخ پہ جلتے ہوئے انگاروں کی سی لالی اور تپش
ہاتھ چھو کر بھی کئی بار جلائے میں نے
تو نے جُوڑے بندھی زلفوں کو جو آزادی دی
تیرے شانوں پہ بکھر آئے حسین ساز کے تار
میں نے انگلی کی شرارت سے سراہا جو انہیں
چھڑ گیا خود ہی سے دیپک کی طرح کوئی سا راگ
میرا ماتھا بھی پسینے میں شرابور ہوا
تیرے ہونٹوں کے کناروں پہ بھی شبنم پھیلی
میری آنکھوں میں بھی تسکین کی مستی آئی
تیری آنکھوں میں بھی گلرنگ سے ڈورے پھیلے
تیرے لب میرے لبوں میں جونہی پیوست ہوئے
میرے مخمور بدن میں وہ حرارت آئی
میں نے خود اپنے بدن کو ایسے بے باک کیا
تو نے پھر اپنے گریبان کو صد چاک کیا
تیرے تن میرے بدن میں ایسی مستی آئی
راستے خود ہی سے پاتال کے کھلتے ہی گئے
ہوش اُڑتے ہی گئے جسم ملتے ہی گئے
خواب پھر خواب، حقیقت کو فسانہ نہ کرو
پھر کسی روز ملو، پھر کسی روز ملو Fida Sherazi
دل لگی نہیں کرتے جان من! جان من
کون تیری چاہت کے
گیت گنگنائے گا
کون مست نظروں کے
زائچے بنائے گا
کون تیری آہٹ کو
نغمہ گیر لکھے گا
کون تیری آنکھوں کو
مثل تیر لکھے گا
کون تیرے ہونٹوں کی
سرخیوں میں گم ہوگا
کون تیرے گالوں کی
مستیوں میں گم ہوگا
کون تیرے بالوں کو
ہاتھ سے سنوارے گا
کون تیری زلفوں میں
پھول کو اتارے گا
سب کی سب حقیقت کو
تم سمجھ رہی ہو پھر
تم نے خود ہی کہہ ڈالا
ساتھ چھوٹ جائے گا
ساتھ چھوٹ جائے تو
قیامتیں گزرتی ہیں
آنسوؤں کے گھونگھٹ میں
ساعتیں بھی جلتی ہیں
تم نے یہ نہیں سوچا
تم نے یہ نہیں جانا
گر سمجھ رہی ہو تو
یہ بھی ذہن میں رکھنا
جسم کو روح سے
خود جدا نہیں کرتے
دل لگی نہیں کرتے
دل لگی نہیں کرتے Fida Sherazi
کون تیری چاہت کے
گیت گنگنائے گا
کون مست نظروں کے
زائچے بنائے گا
کون تیری آہٹ کو
نغمہ گیر لکھے گا
کون تیری آنکھوں کو
مثل تیر لکھے گا
کون تیرے ہونٹوں کی
سرخیوں میں گم ہوگا
کون تیرے گالوں کی
مستیوں میں گم ہوگا
کون تیرے بالوں کو
ہاتھ سے سنوارے گا
کون تیری زلفوں میں
پھول کو اتارے گا
سب کی سب حقیقت کو
تم سمجھ رہی ہو پھر
تم نے خود ہی کہہ ڈالا
ساتھ چھوٹ جائے گا
ساتھ چھوٹ جائے تو
قیامتیں گزرتی ہیں
آنسوؤں کے گھونگھٹ میں
ساعتیں بھی جلتی ہیں
تم نے یہ نہیں سوچا
تم نے یہ نہیں جانا
گر سمجھ رہی ہو تو
یہ بھی ذہن میں رکھنا
جسم کو روح سے
خود جدا نہیں کرتے
دل لگی نہیں کرتے
دل لگی نہیں کرتے Fida Sherazi
شام ڈھلے بے چین سے ہم بھی رہتے ہیں
آرام کہاں اس بستی میں
ہم نگر نگر کے باسی ہیں
ہر روز تڑپتے رہتے ہیں
ہر روز بدلتے رہتے ہیں
عنوان میری سب نظموں کے
بے ربط ادائیں کیا جانیں
اس پیار بھرے سے جذبے کو
جس پیار میں ہم بھی رہتے ہیں
کچھ گم صم سے کچھ چنچل سے
اب اور نہیں تو جذبوں میں
کچھ تھوڑی دیر تو ساتھ چلو
چاہت کی ضرورت کو سمجھو
کسی روز ملو ہمیں شام ڈھلے Fida Sherazi
آرام کہاں اس بستی میں
ہم نگر نگر کے باسی ہیں
ہر روز تڑپتے رہتے ہیں
ہر روز بدلتے رہتے ہیں
عنوان میری سب نظموں کے
بے ربط ادائیں کیا جانیں
اس پیار بھرے سے جذبے کو
جس پیار میں ہم بھی رہتے ہیں
کچھ گم صم سے کچھ چنچل سے
اب اور نہیں تو جذبوں میں
کچھ تھوڑی دیر تو ساتھ چلو
چاہت کی ضرورت کو سمجھو
کسی روز ملو ہمیں شام ڈھلے Fida Sherazi
پگلی ساہو گوٹھ سراب کی پگلی
ساہو گوٹھ کے میدانوں میں
شام ڈھلے تو آ جاتی ہے
مٹی کی آغوش میں بیٹھے
مٹی میں لتھڑے ہاتوں سے
سابق لفظ مٹا جاتی ہے
انگلی کے نازک ماتھے سے
نئے لفظ جگا جاتی ہے
شاید وہ تاریخ ہے لکھتی
اپنے بیتے سالوں کی
جس میں وہ اک شہ زادی تھی
خوابوں اور خیالوں کی
اپنے نازک ماضی میں وہ
ہر لمحہ خاموش تھی رہتی
سوچوں میں پرجوش تھی رہتی
چادر میں روپوش تھی رہتی
جب آئینہ دیکھ کے آتی
چادر سے پھر منہ کو چھپانی
ہر لمحہ ایسے شرماتی
کوئی اس کو دیکھ رہا ہو
وہ سندر ساہو کی پگلی
جو دن بھر کو پھول تھی چنتی
رات کی آنکھ میں خواب تھی بنتی
خود ہی گیت بہار کے گا کر
خود اپنی آواز کو سنتی
کون جانے وہ کیسی تھی
پھول بہار کے جیسی تھی
خواہش کی رنگین سی دنیا
میں تن تنہا رہتی تھی
جانے پھر کیوں اس دنیا نے
اس کے سوہنے من کو توڑا
درد کے سب پیوند لگا کر
اس کا رشتہ غم سے جوڑا Fida Sherazi
ساہو گوٹھ کے میدانوں میں
شام ڈھلے تو آ جاتی ہے
مٹی کی آغوش میں بیٹھے
مٹی میں لتھڑے ہاتوں سے
سابق لفظ مٹا جاتی ہے
انگلی کے نازک ماتھے سے
نئے لفظ جگا جاتی ہے
شاید وہ تاریخ ہے لکھتی
اپنے بیتے سالوں کی
جس میں وہ اک شہ زادی تھی
خوابوں اور خیالوں کی
اپنے نازک ماضی میں وہ
ہر لمحہ خاموش تھی رہتی
سوچوں میں پرجوش تھی رہتی
چادر میں روپوش تھی رہتی
جب آئینہ دیکھ کے آتی
چادر سے پھر منہ کو چھپانی
ہر لمحہ ایسے شرماتی
کوئی اس کو دیکھ رہا ہو
وہ سندر ساہو کی پگلی
جو دن بھر کو پھول تھی چنتی
رات کی آنکھ میں خواب تھی بنتی
خود ہی گیت بہار کے گا کر
خود اپنی آواز کو سنتی
کون جانے وہ کیسی تھی
پھول بہار کے جیسی تھی
خواہش کی رنگین سی دنیا
میں تن تنہا رہتی تھی
جانے پھر کیوں اس دنیا نے
اس کے سوہنے من کو توڑا
درد کے سب پیوند لگا کر
اس کا رشتہ غم سے جوڑا Fida Sherazi
تم میرے ہو کچھ ربط نہیں اب جذبوں میں
کچھ ضبط نہیں ان نظموں میں
باربط کہانی لکھنی ہے
کچھ سوچ مقدس ٹھہری ہے
پھر فکر کے ہر اک آنگن میں
کچھ رابطے ہیں کچھ ضابطے ہیں
ہم چاہت دیس کے باسی ہیں
ہر روز سنورتے رہتے ہیں
ہر روز نکھرتے رہتے ہیں
کبھی گلشن میں کبھی بستی میں
کبھی فکر کی ہر اک مستی میں
کچھ لفظ مہک سے جاتے ہیں
کچھ ہم ترتیب میں لاتے ہیں
ان غزلوں کو ان نظموں کو
ہر سمت محبت پھیلی ہے
چاہت کی حقیقت لکھنی ہے
گر ربط نہ ٹوٹے مستی کا
کچھ ضبط نہ ٹوٹے ہستی کا
ناراض نہ ہو اک بات کہوں
تم میرے ہو تم میرے ہو Fida Sherazi
کچھ ضبط نہیں ان نظموں میں
باربط کہانی لکھنی ہے
کچھ سوچ مقدس ٹھہری ہے
پھر فکر کے ہر اک آنگن میں
کچھ رابطے ہیں کچھ ضابطے ہیں
ہم چاہت دیس کے باسی ہیں
ہر روز سنورتے رہتے ہیں
ہر روز نکھرتے رہتے ہیں
کبھی گلشن میں کبھی بستی میں
کبھی فکر کی ہر اک مستی میں
کچھ لفظ مہک سے جاتے ہیں
کچھ ہم ترتیب میں لاتے ہیں
ان غزلوں کو ان نظموں کو
ہر سمت محبت پھیلی ہے
چاہت کی حقیقت لکھنی ہے
گر ربط نہ ٹوٹے مستی کا
کچھ ضبط نہ ٹوٹے ہستی کا
ناراض نہ ہو اک بات کہوں
تم میرے ہو تم میرے ہو Fida Sherazi