دل لگی نہیں کرتے
Poet: Fida Sherazi By: Fida Sherazi, Islamabadجان من! جان من
کون تیری چاہت کے
گیت گنگنائے گا
کون مست نظروں کے
زائچے بنائے گا
کون تیری آہٹ کو
نغمہ گیر لکھے گا
کون تیری آنکھوں کو
مثل تیر لکھے گا
کون تیرے ہونٹوں کی
سرخیوں میں گم ہوگا
کون تیرے گالوں کی
مستیوں میں گم ہوگا
کون تیرے بالوں کو
ہاتھ سے سنوارے گا
کون تیری زلفوں میں
پھول کو اتارے گا
سب کی سب حقیقت کو
تم سمجھ رہی ہو پھر
تم نے خود ہی کہہ ڈالا
ساتھ چھوٹ جائے گا
ساتھ چھوٹ جائے تو
قیامتیں گزرتی ہیں
آنسوؤں کے گھونگھٹ میں
ساعتیں بھی جلتی ہیں
تم نے یہ نہیں سوچا
تم نے یہ نہیں جانا
گر سمجھ رہی ہو تو
یہ بھی ذہن میں رکھنا
جسم کو روح سے
خود جدا نہیں کرتے
دل لگی نہیں کرتے
دل لگی نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






