شراب عشق
Poet: Fida Sherazi By: Fida Sherazi, islamabadشراب عشق پلاؤ بڑا اندھیرا ہے
نظر نظر سے ملاؤ بڑا اندھیرا ہے
بس ایک لمس کی حدت سے روشنی پھیلے
تم اپنا ہاتھ بڑھاؤ بڑا اندھیرا ہے
کہاں سے دامن صحرا میں آفتاب اُترے
ذرا سی زلف ہٹاؤ بڑا اندھیرا ہے
نگاہ یار سے پیہم جو مئے چھلکتی ہے
اُسی سے جام بناؤ بڑا اندھیرا ہے
پیامبر کی زبانی پیام کیا دیتے
ہمیں نہ اور رلاؤ بڑا اندھیرا ہے
جلا کے اپنے ہی ہاتھوں سے خاک کر ڈالا
نہ دل کی راکھ اُڑاؤ بڑا اندھیرا ہے
تمہیں جو میری طلب ہی نہیں تو جان فدا
مجھے بھی تم نہ ستاؤ بڑا اندھیرا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







