پگلی

Poet: Fida Sherazi By: Fida Sherazi, Islamabad

ساہو گوٹھ سراب کی پگلی
ساہو گوٹھ کے میدانوں میں
شام ڈھلے تو آ جاتی ہے
مٹی کی آغوش میں بیٹھے
مٹی میں لتھڑے ہاتوں سے
سابق لفظ مٹا جاتی ہے
انگلی کے نازک ماتھے سے
نئے لفظ جگا جاتی ہے
شاید وہ تاریخ ہے لکھتی
اپنے بیتے سالوں کی
جس میں وہ اک شہ زادی تھی
خوابوں اور خیالوں کی
اپنے نازک ماضی میں وہ
ہر لمحہ خاموش تھی رہتی
سوچوں میں پرجوش تھی رہتی
چادر میں روپوش تھی رہتی
جب آئینہ دیکھ کے آتی
چادر سے پھر منہ کو چھپانی
ہر لمحہ ایسے شرماتی
کوئی اس کو دیکھ رہا ہو
وہ سندر ساہو کی پگلی
جو دن بھر کو پھول تھی چنتی
رات کی آنکھ میں خواب تھی بنتی
خود ہی گیت بہار کے گا کر
خود اپنی آواز کو سنتی
کون جانے وہ کیسی تھی
پھول بہار کے جیسی تھی
خواہش کی رنگین سی دنیا
میں تن تنہا رہتی تھی
جانے پھر کیوں اس دنیا نے
اس کے سوہنے من کو توڑا
درد کے سب پیوند لگا کر
اس کا رشتہ غم سے جوڑا

Rate it:
Views: 608
24 Nov, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL