پگلی
Poet: Fida Sherazi By: Fida Sherazi, Islamabadساہو گوٹھ سراب کی پگلی
ساہو گوٹھ کے میدانوں میں
شام ڈھلے تو آ جاتی ہے
مٹی کی آغوش میں بیٹھے
مٹی میں لتھڑے ہاتوں سے
سابق لفظ مٹا جاتی ہے
انگلی کے نازک ماتھے سے
نئے لفظ جگا جاتی ہے
شاید وہ تاریخ ہے لکھتی
اپنے بیتے سالوں کی
جس میں وہ اک شہ زادی تھی
خوابوں اور خیالوں کی
اپنے نازک ماضی میں وہ
ہر لمحہ خاموش تھی رہتی
سوچوں میں پرجوش تھی رہتی
چادر میں روپوش تھی رہتی
جب آئینہ دیکھ کے آتی
چادر سے پھر منہ کو چھپانی
ہر لمحہ ایسے شرماتی
کوئی اس کو دیکھ رہا ہو
وہ سندر ساہو کی پگلی
جو دن بھر کو پھول تھی چنتی
رات کی آنکھ میں خواب تھی بنتی
خود ہی گیت بہار کے گا کر
خود اپنی آواز کو سنتی
کون جانے وہ کیسی تھی
پھول بہار کے جیسی تھی
خواہش کی رنگین سی دنیا
میں تن تنہا رہتی تھی
جانے پھر کیوں اس دنیا نے
اس کے سوہنے من کو توڑا
درد کے سب پیوند لگا کر
اس کا رشتہ غم سے جوڑا
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






