Ghazal
Poet: ابراہیم شوبی By: ابراہیم شوبی , Karachiتُم سامنے جو آئے تو جُرأت رہی نہیں
کہنی تھی کوئی بات جو تُم سے کہی نہیں
گر عشق ہے تو آج ہی بندھن میں باندھ لو
"گویا ابھی نہیں ہے کا ہے مطلب کبھی نہیں "
چاہا ہے تُم کو ٹوٹ کے میں نے صنم مرے
کرتے ہیں اِتنی چاہ سے چاہت سبھی نہیں
جی لوں گا چین سے میں تُمہارے بغیر بھی
مُجھ کو تمہاری اِتنی بھی عادت لگی نہیں
یہ کیسی کیفیت ہے عجب اِضطراب ہے
پہلے پہل ہوئی تھی جو چاہت اِبھی نہیں
پروردگار شُکر ترا ماں ہے میرے پاس
دولت کی میرے واسطے بالکل کمی نہیں
بھولا نہیں ہوں آج بھی وہ رات یاد ہے
سردی کی رات ہے تو مگر شبنمی نہیں
لوگو کے چاہنے سے کہاں شوبی کچھ ہُوا
دِل پہ ہمارے برف تو اب تک جمی نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






