Ghazal Saif ali adeel
Poet: SAIF ALI ADEEL By: سیف علی عدیل, گوجرانوالہعشق بے موت کبھی مرنے کہاں دیتا ہے
گھپ اندھیرے میں کئی روشنیاں دیتا ہے
لذتِ دردِ جگر راس اگر آ جا ئے !
ہجر کے غم وہ بھلانے ہی کہاں دیتا ہے
تو نے کچھ کرنا ہے تو دان محبت کر دے
ورنہ یہ درد ہمیں سارا جہاں دیتا ہے
چند لمحوں کی خوشی ہم کو ملے بھی تو کیا
دے اگر رونقِ گل ساتھ خزاں دیتا ہے
جانتا ہوں میں مجھے وہ بہا لے جائے گا
ڈوبنے آنکھ کا یہ پانی کہاں دیتا ہے
وہ ضرورت کی کوئی شے نہیں دیتا ہم کو
خام رائے ہے وہ ہر بات پہ جاں دیتا ہے
میرے ہونے سے زیادہ ہے یقیں اس پہ مجھے
اپنے بندوں کو سنا ہے وہ جناں دیتا ہے
یہ شرارے تو مرے دل سے بھی اٹھتے ہیں سیف
تو سمجھتا ہے کہ آدر ہی دھواں دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






