Hai Mashq-E-Sukhan Jaarii
Poet: Hasrat Mohani By: H/DR Adeeb Ahmed, KARACHIHai Mashq-E-Sukhan Jaarii Chakkii Kii Mushaqqat Bhii
Ek Turfaa Tamaashaa Hai "Hasrat" Kii Tabiiyat Bhii
Jo Chaaho Sazaa De Do Tum Aur Bhii Khul Khelo
Par Ham Se Qasam Le Lo Kii Ho Jo Shikaayat Bhii
Khud Ishq Kii Gustaakhii Sab Tujh Ko Sikhaa Degii
Ai Husn-E-Hayaa-Parvar Shokhii Bhii Sharaat Bhii
Ushaaq Ke Dil Naazuk Us Shokh Kii Khuu Naazuk
Naazuk Isii Nisabat Se Hai Kaar-E-Muhabbat Bhii
Ai Shauq Kii Bebaakii Vo Kyaa Terii Khvaahish Thii
Jis Par U.Nhe.N Gussaa Hai I.Nkaar Bhii Hairat Bhii
Hai.N 'Shad'-O-'Safi' Shaayar Yaa 'Shauq'-O-'Wafa' "Hasrat"
Phir 'Danish'-O-'Mahashar' Hai.N 'Iqbal' Bhii 'Vahashat' Bhii
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






