Hawa Thami Thi Zaror Lakin
Poet: By: Ali, islamabad Hawa Thami Thi Zaror Lakin
Wo Sham Jaisy Sisak Rahi Thi
K Zard Patton Ko Andhion Ne
Ajeeb Qisa Suna Dia Tha
K Jis Ko Sun Kar Tamam Pattay
Sisak Rahy Thay, Bilak Rahy Thay
Janay Kis Sanatay K Ghum Mai
Shajar Jaron Se Ukhar Chuke Thy
Bouth Talash Kia Hum Ne Tum Ko
Har Ek Rasta , Har Ek Wadi
Har Ek Parbat , Har Ek Ghati
Magar Kahin Se Teri Kabar Na Aie
Tu Yea Kah Kar Hum Ne Dil Ko Tala
Hawa Thamay Gi Tu Daik Lain Gay
Hum Uskay Raston Ko Dhoond Lain Gay
Magar Humari Yea Khush Khyali
Ju Hum Ko Barbad Kar Gai Thi
Hawa Thami Thi Zaror Lakin
Bari He Mudat Guzar Chuki Thi
Hamare Balon K Janglon Main
Safiad Chandi Uthar Chuki Thi
Falak Pe Taray Nahi Rahy Thy
Gulab Payare Nahi Rahy Thay
Wo Jin Sy Basti Thi Dil Ke Basti
Wo Loag Sary Nahi Rahy Thy
Magar Yea Almiya Tha Saab Sy Badtar
K Hum Tumhary Nahi Rahy Thay
K Tum Humary Nahi Rahy Thay
Hawa Thami Thi Zaror Lakin
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






