Hum Aj B Apni Ankhun Me
Poet: Sadia Amber Jilani By: Syeda Sadia Amber Jilani, FaisalAbadHum Aj B Apni Ankhun Me Khuch Khuab Saja Kar Rakhty Hain
Chahato'n Aur Wafao'n K Kuch Baab Saja Kar Rakhty Hain
Jab Chaand Apne Joban Par Koi Na'e Shararat Karta Hy
Hum Yado'n Ki Kitaab Me Tera Gulaab Saja Kar Rakhty Hain
Ik Kahani Adori Muhabat Ki Ik Qisa Pori Wafao'n Ka
Ye Sawan Tu Teri Yado'n Ka Azaab Saja Kar Rakhty Hain
Ik Jalti Shama Umeedo'n Ki Rah Takti Nigahe'n Iltajao'n Ki
Har Raat Tmhari Amad K Hum Asbaab Saja Kar Rakhty Hain
Dill Me Kitny Ghao Hain Kon Amber Jany Hy
Deewany Tu Zakhamo'n Par Nikaab Saja Kar Rakhty Hain
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






