Hum Say Na Hu Ga
Poet: HuKhaN By: hukhan, karachiUbh Apnay Fasanay Mein Apna Hee Naa Naam Hu Ga
Dekhna Kabi Koi Na Ilzaam Uss Par Hu Ga
Waja Say Humaree Naa Koi Badnaam Hu Ga
Chore Jaein Gay Shaher Apna Naam O Nishaan Na Hu Ga
Kia Hua Gar Huay Badnaam Bhala Yun Kia Naam Na Hu Ga
Sare E Shaam Hee Bujh Jata Hay Charagh Dar O Deewaar Kia Udaas Na Hu Ga
Samjhaya Tha Sab Nay Ishq Yun Asaan Na Hu Ga
Boojhtay Hein Sab Uss Ka Kia Koi Naam Na Hu Ga
Hu Jaye Wo Badhnaam Ye Hum Say Na Hu Ga
Mar Jaein Gay Hum Magar Wo Ruswaa Na Hu Ga
Han Ye Kaam Kabi Hum Say Na Hu Ga
Maan Liya Hum Nay Nahi Uss Sa Koi Aur Hu Ga
Uth Jaein Ye Qadam Kahein Aur Asa Hum Say Na Hu Ga
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






