Insan hi insan ko nigalta ja raha hey
Poet: Purki By: M.hasan, KarachiKhana-E-Khuda Khana-E-Mulla Banta Ja Raha Hey
Isi Liye Pakistan Qatlistan Banta Ja Raha Hey
Kon Rokey Ga Inhein Kon Samjaye Ga
Rokney Waley Khud Hissadaar Banta Ja Raha Hey
Kafi Saloo Se Ye Mera Dais
Mullistan Banta Ja Raha Hey
Awam Ko Roti,Pani Or Bijli B Muyassur Nahi
Gali Gali Fastfood,Water Plant Or CNG Station Banta Ja Raha Hey
Qabza Group,Siasi Or Mazhabi Mafias Mil Kr
Her Cheez Pr Qabza Karta Ja Raha Hey
Khabardar Ishtiharoo Pr Lakhoo Luta Dia
Magar Shehr Me Kundoo Ka Jaal Bherta Ja Raha Hey
Afsaran Sukoon Se AC Daftaroo Mei Baith Kr
Awam Ka Sukoon Barbaad Karta Ja Raha Hey
AC Ki Thandi Hawawoo Me Mazey Le Le Kr
Choroo Ko U Hi Lalkarta Ja Raha Hey
Jo Barey Chor Hein Wo Khoob Mazey Me Hein
Choroo Ka Bil B Awam Se Wasool Karta Ja Raha Hey
Bijli Choroo Ko Pakarna Or Saza Dilwana KE Ka Kam Hey
Magar Ander Ka Chor Bahar K Choroo Se Milta Ja Raha Hey
Jb Ander Ka Chor Bahar K Chooo Se Mil Jaye
Din Ba Din Awam Pr Biloo Ka Booj Bherta Ja Raha Hey
Hukmaraan 68 Saloo Se Gaa,Gee,Gay K Gardaan Me Masroof Hein
Magar Saal Ba Saal Awam Qarzoo,Marzoo Or Gulami Mei Jakarta Ja Raha Hey
Hukmaraan Khandaan Kahaa Se Kahaa Ponch Gaye
Magar Awam Abi Tuk Gurbat,Berozgaree Or Jahalat K Daldal Me Dunsta Ja Raha Hey
Hukmaranoo Ney America,London Or Dobai Mei Mahal Bana Liye
Magar Gareeb Pakistaniyoo Pr HBFC Ka Qarza Bherta Ja Raha Hey
Jamhooriat Ab Ek Industry Bun Chuki Hey
Jamhooriat K Nam Pe Jamhoor Ki Khaal Utaree Ja Rahee He
Jis Bastee Ka Koi Mukhlis Rehnuma Na Ho
Wo Bastee Din Ba Din Khander Banta Ja Raha Hey
Insan Ko Insan Ka Marham Qarar Qarar Dia
Magar Yahaa Insan Hi Insan Ko Nigalta Ja Raha Hey
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






