جانِ غزل
Poet: Muhammad Amin Tahir By: Muhammad Amin Tahir, Karachi
میری صاحبہ تیرا کیا گیا
میرے رت جَگے تیرے سامنے
تیری اک نظر کا اثر ہوا
میرے ہوش تیرے ہولیے
میں کچھ بھی نہ آگے کہہ سکا
تیرے عکس میں- میں ہولیا
جو سیراب تھا- کبھی میرے لیے
وہ نظر میں میری ایسے بسا
میں تھا مگر میرے لیے
میں نا میں رہا- میں تو- تو بنا
اور جو سایہ تھا کبھی بنا
اسے آئینہ اپنا بنا لیا
ابھی کچھ لمحوں کی تو بات تھی
میں پلک بھی نہ جھپک سکا
نا- وجود میرا- میرا رہا
تیری خودی میں محو ہوا
میری چاہتوں کا صلہ نہیں
رائیگاں میری دعا نہیں
جو اٹھی تھی کبھی میری نظر
اس بے خودی کا ہوا- اثر
تو مل گیا- تو مل گئی
میری کھوئی- ہوئی جانِ غزل
میری کھوئی- ہوئی جانِ غزل
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






