Jayenge Door Tak Jo Khayalo'n K
Poet: By: Ubaid Gabani, KarachiJayenge Door Tak Jo Khayalo'n K Silsilay
Khud Unsay Aa Milengay Ujalo'n K Silsilay
Kutch Isliye Bhi Ho Gaye Ghosha Nasheen Ham
Hadd Se Hi Barh Chalay Thai Sawalo'n K Silsilay
Fursat Nahee'n K Pursishay Ahwaal Kar Sakay
Ham Jantay Hain Bhoolnay Walo'n K Silsilay
Raah E Wafa Katthan Hai Sambhal Kar Chalo Yaha'n
Lamho'n Mai Toot Jate Hain Saalo'n K Silsilay
Dunya Teray Faraib Mai Aanay K Ham Nahee'n
Ham Ne Bohot Parhain Hain Risalo'n K Silsilay
Muddat K Baad Aaye Hain Ghar Ko Jo Laut Kar
Paye Hain Muntazir Wahee Jalo'n K Silsilay
Tai Jab Talak Na Ho Ye Bayaban E Zindagi
Pairo'n K Sath Sath Hain Chhalo'n K Silsilay
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






