جیون کا تم سنگیت ہو
Poet: By: MOHSIN ALI BHATTI, MILANO ITALY
جیون کا تم سنگیت ہو
تم زندگی تم بندگی تم روشنی
تم تازگی تم ہر خوشی تم پیارہو
تم پریت ہو من ِمیت ہو
آنکھوں میں تم یادوں میں تم
سانسوں میں تم آہوں میں تم
نیندوں میں تم خوابوں میں تم
تم ہو میری ہر بات میں
تم ہو میرے دن رات میں
تم صبح میں تم شام میں
تم سوچ میں تم کام میں
میرے لئے پانا بھی تم
میرے لئے کھونا بھی تم
میرے لئے ہنسنا بھی تم
میرے لئے رونا بھی تم
اور جاگنا سونا بھی تم
جاؤں کہیں دیکھوں کہیں
تم ہو وہاں تم ہو وہی
کیسے بتاؤں میں تمہیں
تم بن تو میں کچھ بھی نہیں
کیسے بتائوں میں تمھیں
میرے لئے تم کون ہو
یہ جو تمھارا روپ ہے
یہ زندگی کی دھوپ ہے
چندن سے ترشا ہے بدن
بہتی ہے جسم ایک اگن
یہ شوخیاں یہ مستیاں
تم کو ہواؤں سے ملیں
زلفیں گھٹاؤں سے ملیں
ہونٹوں میں کلیاں کھل گئیں
آنکھوں کو جھیلیں مل گئیں
چہرے میں سمٹی چاندنی
آواز میں ہے راگنی
شیشے کے جیسا انگ ہے
پھولوں کے جیسا رنگ ہے
ندیوں کے جیسے چال ہے
کیا حسن ہے کیا حال ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی







