جہنیں کل تک محبت تھی وہ اب انکار کرتے ہیں
Poet: انعم نقوی By: Anum Naqvi, Jhelum
گرے سوکھے ہوئے پتے بھی یہ اقرار کرتے ہیں
جہنیں کل تک محبت تھی وہ اب انکار کرتے ہیں
عجب دستور دنیا کا یہاں منطق نرالی ہے
رسائی جنکی مشکل ہو انہی سے پیار کرتے ہیں
کبھی تو زندگی رک جا کوئی ہے منتظر تیرا
تیری خاطر قضا سے جھگڑا جو ہربارکرتے ہیں
جانے والے چلے جاتے مگر پیچھے جو رہتے ہیں
انھی کو یادکر کر کے وہ دن شمار کرتے ہیں
خزاں کی رت میں جاتے ہیں پلٹ کر پھر نہیں آتے
پرندے بھی تو پھولوں سے عجب ہی پیار کرتے ہیں
سنو انعم اگر کوئی مسافر لوٹ آئے تو
سواگت اس کے آنے کا ہمی ہربار کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






