Kisi Aik Shakhs Ki Khatir
Poet: Noorani By: Umar Noorani, Denmark,Odense,Suno..!
Qismat Se Larne Ki Kabhi Koshish Na Karna
Sochen Jab Mukhtalif Hon
Duaen Be Asar Ho Jaen
Sabhi Rishte Jab Toot Ke Bikhar Jaen
To Aise Mein Bewafai Ki
Kabhi Koshish Na Karna
Kisi Ke Sath Chalne Ki
Kisi Ke Dil Me Basne Ki
Kabhi Khawahish Nahi Karte
Kisi Aik Shakhs Ki Khatir
Sabhi Se Door Ho Jana
Ye Kahan Ki Mohabbat Hay ?
Mohabbat Ye Nahi Hoti
Mohabbat Dil Me Hoti Hay
Mohabbat Aks Hay Rab Ka
Kabhi Ye Mar Nahi Sakti
Hamesha Sath Rehti Hay
Hamesha Sath Chalti Hay
Mile Jab Koi Chane Wala Tujh Ko
Usi Ke Sath Chalna Tum
Use Dharkan Bana Lena
Use Dil Me Basa Lena
Maghar Qismat Se Larne Ki
Kabhi Koshish Na Karma…!!
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






