Mastii Ke Phir Aa Gaye Zamaane
Poet: Hasrat Mohani By: H/DR Adeeb Ahmed, KARACHIMastii Ke Phir Aa Gaye Zamaane
Aabaad Hu_E Sharaab Khaane
Har Phuul Chaman Me.N Zar-Ba-Kaf Hai
Baa.Nte Hai.N Bahaar Ne Khazaane
Sab Ha.Ns Pa.De Khil-Khilaa Ke Gunche
Chhe.Daa Jo Latifaa Sabaa Ne
Sar-Sabz Huaa Nihaal-E-Gam Bhii
Paidaa Vo Asar Kiyaa Havaa Ne
Rindo.N Ne P??? Kar Pilaa Dii
Vaa_Iz Ke Na Chal Sake Bahaane
Kar Duu.Ngaa Mai.N Har Valii Ko Maikhvaar
Taufiiq Jo Dii Mujhe Khudaa Ne
Ham Ne To Nisaar Kar Diyaa Dil
Ab Jaane Vo Shokh Yaa Na Jaane
Begaanaa-E-Mai Kiyaa Hai Mujh Ko
Saaqii Kii Nigaah-E-Aashnaa Ne
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






