Meri Zindagi To Firaq Hai
Poet: By: Sumer Ali, tando adamMeri Zindagi To Firaq Hai
Woh Azal Say Dil Mai Makeen Sahi
Woh Nigah_E_Shokh Say Door Hai
Rag_E_Jan Say Laakh Qareeb Sahi
Hamain Jan Dayni Hai Ek Din
Woh Kis Tarah Woh Kahin Sahi
Hamain Ap Khechain Dar Par
Jo Nahi Koi To Hum Hi Sahi
Sar_E Tor Ho Sar_E Hashar Ho
Hamain Intazar Qabool Hai
Woh Kabhi Mily Woh Kahin Mily
Woh Kabhi Sahi Woh Kahin Sahi
Na Ho Un Pay Jo Mera Bas Nahin
Kay Aashqi Hai Hawas Nahi
Main Unhi Ka Tha Unhi Ka Hu
Woh Meri Nahi To Nahi Sahi
Ho Jo Faisla Woh Sunae Usay
Hashar Pur Na Uthae
Jo Karain Gay Ap Sitam Wahan
Woh Abhi Sahi Woh Yahin Sahi
Usay Dekhny Ki Jo Lu Lagi
To Dekh Hi Lay Gay Hum
Woh Hazaar Aankh Door Ho
Woh Hazaar Parda Nasheen Sahi
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






