محبت روشنی بن کر دِلوں میں جگمگاتی ہے
Poet: طارق اقبال حاوی By: Tariq Iqbal Haavi, Lahore
محبت روشنی بن کر
دِلوں میں جگمگاتی ہے
مٹا دیتی ہے رنج و غم
ہمیں جینا سکھاتی ہے
کبھی جب رات بھاری ہو
ذہن پہ کرب طاری ہو
چھائی بدحواسی ہو
اُداسی ہی اُداسی ہو
سکوں اِک پل نہ حاصل ہو
سانس لینا بھی مشکل ہو
کوئی جب بات نہ سمجھے
تیرے جذبات نہ سمجھے
کسی جانب سے راحت کی
کوئی نگاہ نہ آئے ۔۔۔
نفرت کے اندھیروں میں
نظر جب راہ نہ آئے
تو پھر ایسا کرنا تم
محبت کو صدا دینا
جس کو تم سے محبت ہے
اسے دل میں جگہ دینا
محبت مشعل راہ بن کر
سدا راہیں دِکھاتی ہے
محبت روشنی بن کر
دلوں میں جگمگاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






