Poetries by Muhammad Habibulla Rajput
Malik Hai Wo Maula Bhi Wohi Hai Malik Hai Wo Maula Bhi Wohi Hai
Har Raaz Jisne Khola Bhi Wohi Hai
Aik Osi Ko Hai Zeba Sajda E Niaz
Kaba Hai Wo Qiblah Bhi Wohi Hai
Qudoos Hai Wo Subhan Bhi Hai
Azeem Bhi Wo Aala Bhi Wohi Hai
Main Shukr Baja Laon Har Dam Osika
Paida Kiya Jisne Pala Bhi Wohi Hai
Ab Khauf Nahi Mujh Ko Habib Kisika
Ye Hosala Jisne Dala Bhi Wohi Hai Prof. Dr. M. Habibullah
Har Raaz Jisne Khola Bhi Wohi Hai
Aik Osi Ko Hai Zeba Sajda E Niaz
Kaba Hai Wo Qiblah Bhi Wohi Hai
Qudoos Hai Wo Subhan Bhi Hai
Azeem Bhi Wo Aala Bhi Wohi Hai
Main Shukr Baja Laon Har Dam Osika
Paida Kiya Jisne Pala Bhi Wohi Hai
Ab Khauf Nahi Mujh Ko Habib Kisika
Ye Hosala Jisne Dala Bhi Wohi Hai Prof. Dr. M. Habibullah
ھم تمھیں یاد صبح و شام کرتے ھیں ھم تمھیں یاد صبح و شام کرتے ھیں
اب کچھ اور نہیں بس یہی کام کرتے ھیں
یہ جو ثروت علم و آگہی رکھتے ھیں
بڑے خلوص سے تیرے نام کرتے ھیں
بہت خوش نصیب ھیں وہ رقیب میرے
جو تیری زلف کے سائے میں آرام کرتے ھیں
بلند خیال ھے بہت یہ قبیل عاشقاں مگر
پست ذھن ھیں لوگ یونہی بدنام کرتے ھیں
پر اثر ھے کتنا نالہ شب کہ حبیب
ماہ و انجم تجھے جھک جھک کے سلام کرتے ھیںو Prof. dr. M. Habibullah Rajput
اب کچھ اور نہیں بس یہی کام کرتے ھیں
یہ جو ثروت علم و آگہی رکھتے ھیں
بڑے خلوص سے تیرے نام کرتے ھیں
بہت خوش نصیب ھیں وہ رقیب میرے
جو تیری زلف کے سائے میں آرام کرتے ھیں
بلند خیال ھے بہت یہ قبیل عاشقاں مگر
پست ذھن ھیں لوگ یونہی بدنام کرتے ھیں
پر اثر ھے کتنا نالہ شب کہ حبیب
ماہ و انجم تجھے جھک جھک کے سلام کرتے ھیںو Prof. dr. M. Habibullah Rajput
یہاں کون جانتا ھے مجھے یہاں کون جانتا ھے مجھے
بس میرا پتا ھے تجھے
اوروں کی بات مت سنو
شاید اس کی بات دل لگے
جہاں کوئی درد مند نہ ھو
میں کیسے گھر کہوں اسے
یہ لوگ پاک لوگ ہیں
آدمی نہیں ھیں یہ فرشتے
خود میں ہزاروں عیب سہی
بس اوروں کی جاں ہیں گھولتے
سنا ھے تولو پھر بولو!
یہ بول کر بھی نہیں تولتے
نا محرم ھوں ان کے درمیاں حبیب
یہ حجاب ذات نہیں کھولتے Pro. Dr. M. Habibullah Rajput
بس میرا پتا ھے تجھے
اوروں کی بات مت سنو
شاید اس کی بات دل لگے
جہاں کوئی درد مند نہ ھو
میں کیسے گھر کہوں اسے
یہ لوگ پاک لوگ ہیں
آدمی نہیں ھیں یہ فرشتے
خود میں ہزاروں عیب سہی
بس اوروں کی جاں ہیں گھولتے
سنا ھے تولو پھر بولو!
یہ بول کر بھی نہیں تولتے
نا محرم ھوں ان کے درمیاں حبیب
یہ حجاب ذات نہیں کھولتے Pro. Dr. M. Habibullah Rajput
کسی سے پیار کیا کرنا کسی سے پیار کیا کرنا
یہ کار بیکار کیا کرنا
جاں رب کی امانت ھے
صنم پہ نثار کیا کرنا
پھول بھرے تھے دامن میں
کانٹوں کا شمار کیا کرنا
رات مسکرانے لگی اے دوست
اب تیرا انتظار کیا کرنا
لو وہ جلے ھیں محفل سے
اب نظر کو چار کیا کرنا
لوگ جھوٹی باتیں کرتے ھیں
ان پہ اعتبار کیا کرنا
حبیب چمن دل کا اجڑ گیا
اب باغوں میں بہار کیا کرنا Dr. M. Habibullah Rajput
یہ کار بیکار کیا کرنا
جاں رب کی امانت ھے
صنم پہ نثار کیا کرنا
پھول بھرے تھے دامن میں
کانٹوں کا شمار کیا کرنا
رات مسکرانے لگی اے دوست
اب تیرا انتظار کیا کرنا
لو وہ جلے ھیں محفل سے
اب نظر کو چار کیا کرنا
لوگ جھوٹی باتیں کرتے ھیں
ان پہ اعتبار کیا کرنا
حبیب چمن دل کا اجڑ گیا
اب باغوں میں بہار کیا کرنا Dr. M. Habibullah Rajput
یاد ان کی آ ہی جاتی ہے یاد ان کی آ ہی جاتی ہے
زخم جگر سہلا ہی جاتی ہے
کوئی اور ہمیں ستائے کیوں
گھڑی ہجر کی آ ہی جاتی ہے
وہ مدتوں سے یہاں نہیں آیا
دور تلک سنسان راہ ہی جاتی ہے
پھول کھلے ہیں دور گلشن میں
بوئے گل بتا ہی جاتی ہے
ہارنے والے ہم نہیں لیکن
کیوں دنیا آزما ہی جاتی ہے
بھلے پکاروں اسے وحشت میں
لب پہ دعا آ ہی جاتی ہے
وقت تیرا بھی آئے گا حبیب
مشکل پس مشکل آ ہی جاتی ہے Prof. Dr. M. Habibullah Rajput
زخم جگر سہلا ہی جاتی ہے
کوئی اور ہمیں ستائے کیوں
گھڑی ہجر کی آ ہی جاتی ہے
وہ مدتوں سے یہاں نہیں آیا
دور تلک سنسان راہ ہی جاتی ہے
پھول کھلے ہیں دور گلشن میں
بوئے گل بتا ہی جاتی ہے
ہارنے والے ہم نہیں لیکن
کیوں دنیا آزما ہی جاتی ہے
بھلے پکاروں اسے وحشت میں
لب پہ دعا آ ہی جاتی ہے
وقت تیرا بھی آئے گا حبیب
مشکل پس مشکل آ ہی جاتی ہے Prof. Dr. M. Habibullah Rajput
ھاتھ میں لے کر میرا ہاتھ ھاتھ میں لے کر میرا ہاتھ
چل دی زندگی میرے ساتھ
ہاں وہی تو میرا اپنا ھے
پڑھ لی جس نے دل کی بات
پھر بھولی بسری یاد کوئی
مجھ کو رلا گئی پچھلی رات
آتے جاتے ان لمحوں میں
کٹ ہی گئی غم کی رات
یہ دل سوالی وفا کا ھے
اب کس سے کریں ایسی بات
پیار کے کھیل میں ھم نفسوں
بس مات پہ ہوتی گئی مات
حبیب ان اجنبی سے لوگوں میں
تنہا ہی رہی اپنی ذات Prof. M. Habibullah Rajput
چل دی زندگی میرے ساتھ
ہاں وہی تو میرا اپنا ھے
پڑھ لی جس نے دل کی بات
پھر بھولی بسری یاد کوئی
مجھ کو رلا گئی پچھلی رات
آتے جاتے ان لمحوں میں
کٹ ہی گئی غم کی رات
یہ دل سوالی وفا کا ھے
اب کس سے کریں ایسی بات
پیار کے کھیل میں ھم نفسوں
بس مات پہ ہوتی گئی مات
حبیب ان اجنبی سے لوگوں میں
تنہا ہی رہی اپنی ذات Prof. M. Habibullah Rajput
ھم نے پکارا ابھر ابھر کر ھم نے پکارا ابھر ابھر کر
ڈوبا کنارا ابھر ابھر کر
ساتھ رہا عمر بھر اپنے
مقدر کا ستارہ ابھر ابھر کر
میرے نام کے ساتھ آتا رہا
اک نام تمھارا ابھر ابھر کر
اور انداز الفت سکھلاتا رہا
یہ دل بے چارہ ابھر ابھر کر
میری آنکھوں میں اترا آخر شب
ایک حسین نظارہ ابھر ابھر کر
عشق کے سبھی صحفوں میں
رھے نام ھمارا ابھر ابھر کر
حبیب ظلمتوں میں راہ دکھلا گیا
تیرے نور کا اشارہ ابھر ابھر کر Prof. Dr. M. Habibullah Rajput
ڈوبا کنارا ابھر ابھر کر
ساتھ رہا عمر بھر اپنے
مقدر کا ستارہ ابھر ابھر کر
میرے نام کے ساتھ آتا رہا
اک نام تمھارا ابھر ابھر کر
اور انداز الفت سکھلاتا رہا
یہ دل بے چارہ ابھر ابھر کر
میری آنکھوں میں اترا آخر شب
ایک حسین نظارہ ابھر ابھر کر
عشق کے سبھی صحفوں میں
رھے نام ھمارا ابھر ابھر کر
حبیب ظلمتوں میں راہ دکھلا گیا
تیرے نور کا اشارہ ابھر ابھر کر Prof. Dr. M. Habibullah Rajput
جب بھی نگاھوں کو چار کرنا چاھا جب بھی نگاھوں کو چار کرنا چاھا
ذرا سا چھو کے پیار کرنا چاھا
وہ ھواؤں کی طرح بکھر گیا
جب بھی اس کا حصار کرنا چاھا
بھلا چاھت اس کے دل میں گھر کیا کرتی
ھم نے دشت کو گلزار کرنا چاھا
سو گئے شب ھجر سب مہر و مہ
بس ھم نے انتظار کرنا چاھا
اسے یاد آئیں زماے بھر کی باتیں
ھم نے جب بھی قول و قرار کرنا چاھا
مدت ھوئی اس سے بچھڑے مگر
پھر بھی اسی سے پیار کرنا چاھا
اب یوں ھی اداس پھرنا حبیب
تم نے پتھروں سے پیار کرنا چاھا Prof. Dr. M. Habibullah Rajput
ذرا سا چھو کے پیار کرنا چاھا
وہ ھواؤں کی طرح بکھر گیا
جب بھی اس کا حصار کرنا چاھا
بھلا چاھت اس کے دل میں گھر کیا کرتی
ھم نے دشت کو گلزار کرنا چاھا
سو گئے شب ھجر سب مہر و مہ
بس ھم نے انتظار کرنا چاھا
اسے یاد آئیں زماے بھر کی باتیں
ھم نے جب بھی قول و قرار کرنا چاھا
مدت ھوئی اس سے بچھڑے مگر
پھر بھی اسی سے پیار کرنا چاھا
اب یوں ھی اداس پھرنا حبیب
تم نے پتھروں سے پیار کرنا چاھا Prof. Dr. M. Habibullah Rajput
کہنا دل کا مانا پھر کہنا دل کا مانا پھر
اک غیر کو اپنا جانا پھر
اس کا دل توڑنا دیکھا
الفت سے منانا پھر
کون بنا ھم دم اپنا
ھر کوئی تھا بیگانہ پھر
اپنوں نے کیا کیا ستم کیے
یہ تو ھے زمانہ پھر
ھاتھ پہ قسم کھانے والا
کیسا بنا انجانا پھر
مدتوں بعد وہ لوٹا تو
پلٹ کے اسکا جانا پھر
حبیب پہلے پوچھا راز دل
یاروں نے بنایا افسانہ پھر Prof. Dr. M. Habibullah Rajput
اک غیر کو اپنا جانا پھر
اس کا دل توڑنا دیکھا
الفت سے منانا پھر
کون بنا ھم دم اپنا
ھر کوئی تھا بیگانہ پھر
اپنوں نے کیا کیا ستم کیے
یہ تو ھے زمانہ پھر
ھاتھ پہ قسم کھانے والا
کیسا بنا انجانا پھر
مدتوں بعد وہ لوٹا تو
پلٹ کے اسکا جانا پھر
حبیب پہلے پوچھا راز دل
یاروں نے بنایا افسانہ پھر Prof. Dr. M. Habibullah Rajput
وفا کیا صنم کرو گے وفا کیا صنم کرو گے
ستم با لائے ستم کرو گے
تمھیں ھمارا غم ہی کیا
یونہی پلکیں نم کرو گے
جب بھی لوٹا گھر کو میں
سر خوشی کا قلم کرو گے
جانو نہیں تم رسم الفت
دلبری کیا صنم کرو گے
دور ستم میں جو ھم پہ بیتی
وہ داستاں کیا رقم کرو گے
بجھ ھی نہ جائے چراغ ھستی
جو ھوائے ستم نہ کم کرو گے
ھے تنہا بہت دل حبیب
اب آباد اس کو تم کرو گے Prof. Dr. M. Habibullah Rajput
ستم با لائے ستم کرو گے
تمھیں ھمارا غم ہی کیا
یونہی پلکیں نم کرو گے
جب بھی لوٹا گھر کو میں
سر خوشی کا قلم کرو گے
جانو نہیں تم رسم الفت
دلبری کیا صنم کرو گے
دور ستم میں جو ھم پہ بیتی
وہ داستاں کیا رقم کرو گے
بجھ ھی نہ جائے چراغ ھستی
جو ھوائے ستم نہ کم کرو گے
ھے تنہا بہت دل حبیب
اب آباد اس کو تم کرو گے Prof. Dr. M. Habibullah Rajput
اک لڑکی بڑی دیوانی ھے اک لڑکی بڑی دیوانی ھے
چنری جسکی دھانی ھے
غزال سی مستانی ھے
آنکھوں میں کیسی حیرانی ھے
ایک بات اسے بتانی ھے
اس سنگ پریت لگانی ھے
کیا الہڑ تیری جوانی ھے
اور پیار سے تو بیگا نی ھے
راہ پیار کی انجانی ھے
پر جوانی پھر نہیں آنی ھے
بس پیار کی سیج سجانی ھے
اب دل میں ھم نے ٹھانی ھے
پھر دنیا کو آگ لگانی ھے
جو اشکوں سے بجھانی ھے
یہ ریت بڑی پرانی ھے
بس یہی پیار کی کھانی ھے Prof. Dr. M. Habibullah
چنری جسکی دھانی ھے
غزال سی مستانی ھے
آنکھوں میں کیسی حیرانی ھے
ایک بات اسے بتانی ھے
اس سنگ پریت لگانی ھے
کیا الہڑ تیری جوانی ھے
اور پیار سے تو بیگا نی ھے
راہ پیار کی انجانی ھے
پر جوانی پھر نہیں آنی ھے
بس پیار کی سیج سجانی ھے
اب دل میں ھم نے ٹھانی ھے
پھر دنیا کو آگ لگانی ھے
جو اشکوں سے بجھانی ھے
یہ ریت بڑی پرانی ھے
بس یہی پیار کی کھانی ھے Prof. Dr. M. Habibullah
عجب ھے تانا بانا دل کا عجب ھے تانا بانا دل کا
یہ ھنسانا اور رلانا دل کا
پھول خوشی کے کھلتے جائیں
موسم ھے سہانا دل کا
حسن کی محفل میں اب یارو
شمع ھیں وہ پروانہ دل کا
سدا وہ اس میں آباد رھیں
ھے کیا خوب ٹھکانہ دل کا
کیا بتائیں اے ھم دم تجھ کو
غم ھجر اور گھبرانا دل کا
گواہ ھیں چاند تارے میرے
رو رو کے سنایا فسانہ ول کا
عجب ھے رسم شہر حسن حبیب
جان ہی لے گا،یہ لگانا دل کا Prof. Dr. M. Habibullah Rajput
یہ ھنسانا اور رلانا دل کا
پھول خوشی کے کھلتے جائیں
موسم ھے سہانا دل کا
حسن کی محفل میں اب یارو
شمع ھیں وہ پروانہ دل کا
سدا وہ اس میں آباد رھیں
ھے کیا خوب ٹھکانہ دل کا
کیا بتائیں اے ھم دم تجھ کو
غم ھجر اور گھبرانا دل کا
گواہ ھیں چاند تارے میرے
رو رو کے سنایا فسانہ ول کا
عجب ھے رسم شہر حسن حبیب
جان ہی لے گا،یہ لگانا دل کا Prof. Dr. M. Habibullah Rajput
کوئی خطا ھو گئی ھم سے کوئی خطا ھو گئی ھم سے
بس وفا ھو گئی ھم سے
اک تیری خوشی تھی ساتھ ساتھ
وہ جدا ھو گئی ھم سے
اے جان آرزو تیری نسبت
کیا تھی کیا ھو گئی ھم سے
شاد ھیں کہ نماز عشق
آخر ادا ھو گئی ھم سے
تو بچھڑ بچڑ کے ملے ھم سے
کیسی دعا ھو گئی ھم سے
کوئی خبر اس کی نہ لائی صبا
بتا خفا ھو گئی ھم سے
حبیب سبھی نالاں ھیں یوں
بات صفا ھو گئی سے Prof. Dr. M. Habibullah Rajput
بس وفا ھو گئی ھم سے
اک تیری خوشی تھی ساتھ ساتھ
وہ جدا ھو گئی ھم سے
اے جان آرزو تیری نسبت
کیا تھی کیا ھو گئی ھم سے
شاد ھیں کہ نماز عشق
آخر ادا ھو گئی ھم سے
تو بچھڑ بچڑ کے ملے ھم سے
کیسی دعا ھو گئی ھم سے
کوئی خبر اس کی نہ لائی صبا
بتا خفا ھو گئی ھم سے
حبیب سبھی نالاں ھیں یوں
بات صفا ھو گئی سے Prof. Dr. M. Habibullah Rajput